Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2672

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن عائشة وابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخر طواف الزيارة يوم النحر إلى الليل. رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ اور ابن عباس سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بقرعید کے دن طواف زیارت رات تک مؤخر فرمایا ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دسویں تاریخ کو طواف زیارت کی رات تک اجازت دی کہ جو آج طواف کرنا چاہے وہ رات تک کر لے،رات میں جا کر نہ کرے۔اس کا مطلب نہ تو یہ ہے کہ حضور نے آج رات میں طواف کیا حضور انور نے ظہر سے پہلے طواف کیا اور ظہر مکہ معظمہ بلکہ منٰی میں واپس آکر ادا کی،نہ یہ مطلب ہے کہ صرف آج رات طواف کا وقت ہے،اس کا وقت احناف کے ہاں دسویں کی فجر سے بارھویں کی غروب آفتاب سے پہلے تک ہے زیادہ تاخیر سے دم واجب ہے،شوافع کے ہاں دسویں کی آدھی رات سے جب تک چاہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2672