Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2671

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحٰى عَلٰى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَيْنَ قَائِم وَقَاعِدٍ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن رافع بن عمرو المزني قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب الناس بمنى حين ارتفع الضحى على بغلة شهباء وعلي يعبر عنه والناس بين قائم وقاعد رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رافع ابن عمرو مزنی سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ منٰی میں اپنے چتکبرے خچر پر خطبہ پڑھ رہے تھے جب کہ دن چڑھ چکا تھا ۱؎اور جناب علی اس کی تفسیر و تعبیر کررہے تھے لوگ کچھ بیٹھے تھے کچھ کھڑے تھے۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ وعظ دسویں بقرعید کو فرمایا،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے رمی تو اونٹنی پر کی اور وعظ خچر پر۔
۲
؎یعنی کچھ فاصلہ پر جہاں تک حضور انور کی آواز پہنچ رہی تھی وہاں جناب علی کھڑے ہوکر حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا کلام لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ اس حج میں ایک لاکھ تیس ہزار مسلمان شریک تھے مگر صواعق محرقہ وغیرہ میں ہے کہ صحابہ کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے،حج میں ایک لاکھ سے زیادہ نے شرکت کی،یہ ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔صحابہ کی تعداد انبیاءکرام کی تعداد کے برابر ہے۔خیال رہے کہ حج میں تین خطبے سنت ہیں:آٹھویں بقر عید کو مکہ معظمہ میں،نویں کو عرفات میں،دسویں کو منٰی میں۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2671