Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2668

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدُكُمْ حَتّٰى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهٖ بِالبَيْتِ إِلَّا أَنَّهٗ خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس قال: كان الناس ينصرفون في كل وجه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ينفرن أحدكم حتى يكون آخر عهده بالبيت إلا أنه خفف عن الحائض»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ لوگ ہر طرف چل دیتے تھے ۱؎تب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تم میں سے کوئی واپس نہ ہو حتی کہ اس کا آخری کام بیت اللّٰه سے ہو ۲؎مگر حائضہ سے یہ حکم ہلکا کردیا گیا۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی پہلے حجاج رخصت کے وقت طواف وداع نہ کرتے تھے یوں ہی چلے جاتے تھے۔من کُلّ وجہٍکے معنے ہیں ہر طرف سے ہر محلہ سے روانہ ہوجاتے تھے یہ گویا بے قاعدگی سی تھی۔
۲
؎یعنی بیت اللّٰه کا طواف کرکے مکہ معظمہ سے روانہ ہؤو تاکہ تمہاری آمد طواف سے ہو اور روانگی بھی طواف سے،یہی حال مدینہ منورہ کا ہے کہ حجاج پہنچتے ہی سلام عرض کرتے ہیں اور چلتے وقت سلام وداع کر کے چلتے ہیں،اس وقت جو دل کی کیفیت ہوتی ہے بیان نہیں ہو سکتی۔
بدن سے جاں نکلتی ہے آہ سینہ سے
ترے فدائی نکلتے ہیں جب مدینہ سے
۳
؎یعنی حائضہ و نفساء عورت طواف وداع کےلیے حیض بند ہونے کا انتظار نہ کرے بلکہ یوں ہی چلی جائے ورنہ بہت دشواری ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2668