Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2663

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلٰى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقٰى. فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ اذْهَبْ إِلٰى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا فَقَالَ: اسْقِنِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ قَالَ: اسْقِنِي . فَشرب مِنْهُ ثُمَّ أَتٰى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا. فَقَالَ: اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلٰى عَمَلٍ صَالِحٍ. ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتّٰى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلٰى هٰذِهٖ . وَأَشَارَ إِلٰى عَاتِقِهٖ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عباس: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء إلى السقاية فاستسقى. فقال العباس: يا فضل اذهب إلى أمك فأت رسول الله صلى الله عليه وسلم بشراب من عندها فقال: اسقني فقال: يا رسول الله إنهم يجعلون أيديهم فيه قال: اسقني . فشرب منه ثم أتى زمزم وهم يسقون ويعملون فيها. فقال: اعملوا فإنكم على عمل صالح. ثم قال: لولا أن تغلبوا لنزلت حتى أضع الحبل على هذه . وأشار إلى عاتقه . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم زمزم کے سقایہ(مٹی)پر تشریف لائے پانی مانگا ۱؎تو حضرت عباس نے فرمایا اے فضل اپنی والدہ کے پاس جاؤ ان کے پاس سے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے لیے پانی لے آؤ ۲؎حضور انور نے فرمایا مجھے پانی پلاؤ ۳؎عرض کیا یارسول اللّٰه اس میں لوگ ہاتھ ڈالتے ہیں فرمایا ہم کو پانی پلاؤ چنانچہ حضور نے اس ہی سے پیا ۴؎پھر چاہ زمزم پر تشریف لائے جب کہ وہ پانی بھررہے تھے اور اس میں کام کاج کررہے تھے تو فرمایا کئے جاؤ تم لوگ اچھے کام میں لگے ہوئے ہو۵؎پھر فرمایا اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے تو ہم خود اترتے حتی کہ رسی اس پر رکھتے اور اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خود چاہ زمزم پر جانا اور پانی بھرنے والوں سے مانگ کر زمزم پینا بھی سنت ہے جیسے کہ گھر پر منگاکر پینا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ پانی وغیرہ مانگنا ممنوع نہیں اور یہ ان سوالات سے نہیں جن میں ذلت ہے اور جن سے شریعت میں ممانعت ہےسوال ذلت اور ہے سوال خدمت کچھ اور۔غالبًا یہ واقعہ دسویں بقرعید کا ہے جب حضور انور منیٰ سے طواف فرمانے مکہ معظمہ تشریف لائے اور طواف کے بعد منٰی واپس ہوگئے اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ طواف زیارت کے بعد زمزم پینا سنت ہے۔
۲
؎یعنی اے فرزند فضل ہم نے تم لوگوں کے لیے زمزم اپنے گھر بھیج دیا ہے جس میں لوگوں کے ہاتھ نہیں پڑے ہیں کسی کے استعمال میں نہیں آیا،حضور انور کے لیے اس میں سے پانی لاؤ۔معلوم ہوا کہ زمزم شریف گھروں میں بھیجنا بھی سنت ہے جیساکہ اب بھی وہاں رواج ہے کہ حجاج کے ٹھکانوں پر معلم لوگ روزانہ زمزم بھجواتے ہیں اس کی اصل یہ حدیث ہے۔
۳
؎یعنی اسی سقایہ سے پلاؤ جہاں سے عام حجاج پی رہے ہیں تاکہ یہاں ہر بڑے چھوٹے کی برابری کا ظہور ہو۔
۴
؎دارقطنی نے اپنے افراد میں حضرت عبداللّٰه ابن عباس سے مرفوعًا روایت فرمایا کہ تواضع و انکسار سے یہ ہے کہ انسان مسلمان بھائی کا جھوٹا پانی پیئے،بعض روایات میں ہے کہ حضورصلی اللّٰہ علیہ و سلم مسلمانوں کے وضو سے بچا ہوا پانی پینا پسند فرماتے تھے،غرضکہ عمومًا اور حج میں خصوصًا اپنے کو بڑائی و فخر سے بچائے۔
۵
؎کیونکہ زمزم شریف کنوئیں سے نکالنا بھی عبادت ہے اور پلانا بھی عبادت۔خیال رہے کہ حضرت عباس زمزم کے منتظم تھے،ان کے ماتحت بہت سے لوگ پانی نکالتے اور پلاتے تھے،انتظام ان ہی کا تھا۔
۶
؎یعنی اگر ہم لوگوں کے سامنے زمزم بھرنا شروع کردیں تو لوگ اسی عمل کو سنت سمجھ کر اسی کام کے لیے دوڑ پڑیں گے،پھر ڈول رسی تمہارے ہاتھ نہ آئے گا اس لیے ہم یہ نہیں کرتے ورنہ دل چاہتا ہے کہ ہم بھی ڈول بھریں۔بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے ڈول بھرا اور ڈول سے ہی زمزم پیا پھرکچھ پانی ڈول میں ڈالا وہ ڈول کنویں میں ڈال دیا،یہ دوسرے موقعہ پر ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔(مرقات)علماءفرماتے ہیں کہ چاہ زمزم پر چڑھ کر اس میں جھانکنا نفاق کو دورکرتا ہے اورخود ڈول بھرنا بہت بہتر ہے اگر میسر ہو اس کی اصل بھی موجود ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2663