Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2664

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ ثُمَّ رَقَدَ رَقْدَةً بِالمُحَصَّبِ ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهٖ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر والعصر والمغرب والعشاء ثم رقد رقدة بالمحصب ثم ركب إلى البيت فطاف به . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مقام محصب ۱؎میں ظہروعصر مغرب اور عشاء پڑھی پھر کچھ سوئے پھر بیت اللّٰه کی طرف سوار ہوگئے تو اس کا طواف کیا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎محصبعربی میں کنکریلی زمین کو کہتے ہیں،اب ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ معظمہ سے سے منٰی جاتے راستہ میں آتی ہے۔جنت معلے یعنی مکہ معظمہ کے قبرستان سے متصل ہے اسے بطح،بطحا اور خیف بنی کنانہ بھی کہتے ہیں۔یہ واقعہ تیرھویں ذی الحجہ کا ہے جب سرکار عالی منٰی سے فارغ ہو کر مکہ معظمہ واپس ہورہے تھے،طواف زیارت تو حضور انور دسویں ذی الحجہ کو ہی کرچکے تھے مکہ معظمہ پہنچنے کی جلدی نہ تھی،اگر رب نصیب کرے تو اب بھی محصب میں ٹھہرے۔
۲
؎یہ طواف وداع تھا جو مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانگی کے وقت کیا گیا،حضرت عبداللّٰه ابن عباس فرماتے ہیں کہ محصب میں یہ قیام ارادۃً نہ تھا اتفاقًا تھا۔(بخاری)حضرت ابورافع فرماتے ہیں کہ مجھے حضور انور نے محصب میں خیمہ لگانے کا حکم نہ دیا تھا میں نے خود ہی اپنے طور وہاں خیمہ لگادیا اور سرکار نے وہاں قیام فرمایا۔(مسلم)حضرت اسامہ ابن زید فرماتے ہیں کہ حضور انور نے مجھ سے منٰی میں فرمایا تھا کہ ہم کل حنیف بنی کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے مسلمانوں کے بائیکاٹ پر حلف اٹھایا تھا،خلفائے راشدین بھی حج کے موقعہ پر اس تاریخ میں یہاں قیام فرماتے تھے۔مقصد تھا رب کی نعمت کا شکر کرنا کہ کل ہمارے بائیکاٹ پر یہاں حلف اٹھائے جاتے تھے اور آج ہم کو اللّٰه نے یہاں آزادی بخشی ہے،ان روایات سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محصب میں ٹھہرنا سنت ہے مگر واجب نہیں،میسر ہو تو بہت اچھا۔(مرقات و لمعات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2664