Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2667

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَبْطَحِ حَتّٰى فَرَغْتُ فَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالبَيْتِ فَطَافَ بِهٖ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ. هٰذَا الْحَدِيثُ مَا وَجَدْتُهٗ بِرِوَايَةِ الشَّيْخَيْنِ بَلْ بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ مَعَ اخْتِلَافٍ يَسِيرٍ فِي آخِرِهٖ

وعنها قالت: أحرمت من التنعيم بعمرة فدخلت فقضيت عمرتي وانتظرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بالأبطح حتى فرغت فأمر الناس بالرحيل فخرج فمر بالبيت فطاف به قبل صلاة الصبح ثم خرج إلى المدينة. هذا الحديث ما وجدته برواية الشيخين بل برواية أبي داود مع اختلاف يسير في آخره

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میں نے مقام تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا پھر میں مکہ معظمہ آئی اپنا عمرہ پورا کیا ۱؎رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مقام ابطح میں میرا انتظار فرمایا حتی کہ میں فارغ ہوگئی ۲؎پھر لوگوں کو کوچ کا حکم دیا پھر آپ وہاں سے آئے تو بیت اللّٰه شریف پر گزرے فجر سے پہلے اس کا طواف کیا ۳؎پھر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے میں نے یہ حدیث مسلم، بخاری کی روایت سے نہ پائی بلکہ آخر میں تھوڑے اختلاف کے ساتھ ابوداؤد کی روایت سے پائی ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎ام المؤمنین کا یہ عمرہ وہ ہے جو حج سے پہلے رہ گیا تھا کہ عمرہ کا احرام تھا مگر بوجہ ماہواری عارضہ کے ادا نہ ہوسکا،اب بعد میں کیا گیا، چونکہ عمرہ کا احرام حرم سے باہر باندھتا ہے اس لیے آپ مقام تنعیم گئیں جو حدود حرم سے باہر مکہ معظمہ سے تین میل دور جگہ ہے،اب یہاں مسجد عائشہ ہے عام حجاج عمرہ کا احرام باندھنے وہاں جاتے ہیں۔
۲
؎ام المؤمنین حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے محصب میں قیام فرمانے کی یہ دوسری وجہ بیان فرمارہی ہیں کہ یہاں حضور انور نے میرے عمرہ کے انتظار میں قیام فرمایا تھا مقصد وہی ہے کہ یہ قیام سنت حج نہیں۔
۳
؎یہ طواف وداع تھا جس کو مکہ معظمہ سے چلتے وقت حجاج اداکرتے ہیں نہ اس میں رمل ہے نہ اس کے بعد سعی،یہ طواف کرکے وہاں سے روانہ ہوجاتے ہیں۔غالبًا حضور انور نے یہ طواف تو نماز فجر سے پہلے کیا ہوگا مگر وہاں سے روانگی بعد فجر اشراق و سنت،طواف ادا کرکے کی ہوگی۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ صرف طواف کر کے روانہ ہوگئے ہوں اور کچھ راستہ طے کر کے فجر پڑھی ہو وہاں ہی نفل طواف ادا کئے ہوں،طواف کے نفل ہر جگہ درست ہیں۔
۴
؎اس جملہ میں صاحب مصابیح پر دو اعتراض ہیں:ایک یہ کہ فصل اول میں وہ مسلم،بخاری کے علاوہ حدیث لائے۔دوسرے یہ کہ حدیث ابوداؤد میں تو ہے مگر اس کے الفاظ بعینہ یہ نہیں ان میں کچھ فرق ہے،مصنف یہاں مسلم،بخاری کی روایت لاتے یا ابوداؤد کی روایت بعینہ ان ہی الفاظ سے لاتے جن میں وہاں موجود ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2667