Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2676

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهٖ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلٰى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ فَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعنها قالت: أفاض رسول الله صلى الله عليه وسلم من آخر يومه حين صلى الظهر ثم رجع إلى منى فمكث بها ليالي أيام التشريق يرمي الجمرة إذا زالت الشمس كل جمرة بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة ويقف عند الأولى والثانية فيطيل القيام ويتضرع ويرمي الثالثة فلا يقف عندها. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دن کے آخری حصہ میں جب کہ ظہر پڑھ چکے تو طواف زیارت کیا پھر منٰی لوٹ آئے ۱؎پھر تشریق کے زمانہ میں وہاں ہی قیام فرمایا کہ سورج ڈھل جانے پر جمرہ کی رمی کرتے تھے ۲؎ہر جمرہ کی ساتھ کنکریوں سے ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے ۳؎پہلے اور دوسرے جمروں کے پاس کچھ ٹھہرتے تھے تو دراز قیام کرتے تھے عاجزی زاری کرتے تھے اور تیسرے جمرہ کی رمی کرتے تو وہاں نہ ٹھہرتے ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے طواف زیارت نماز ظہر پڑھ کر کیا بلکہ یہ کہ ظہر منٰی میں پڑھی،پھر مکہ معظمہ تشریف لے گئے مگر پہلےگزرچکا کہ حضور انور نے نماز ظہر سے پہلے طواف کیا بعد میں ظہر پڑھی مکہ معظمہ میں یا منٰی واپس آکر ،اس لیے بعض شارحین نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ حضور انور نے ظہر سے پہلے تو خود آپ طواف زیارت کیا پھر بعد نماز ظہر اپنی ازواج مطہرات کو طواف کرانے لے گئے،دسویں بقر عید کو دوبارہ مکہ معظمہ تشریف لائے،ان گزشتہ احادیث میں اپنے طواف کرنے کا ذکر ہے اور یہاں ازواج پاک کو طواف کرانے کا تذکرہ یا ازواج پاک کو یہ طواف گیارھویں یا بارھویں کو کرایا،یہاں اسی کا ذکر ہے،بہرحال یہ حدیث واجب التاویل ہے۔ (مرقات وغیرہ)
۲
؎پہلے بتایا جاچکا ہے کہ دسویں بقر عید کو صرف جمرہ عقبہ کی رمی ہوگی اور زوال سے پہلے،پھر باقی گیارھویں بارھویں کو تینوں جمروں کی رمی ہوگی مگر زوال کے بعد آج کل حجاج بارھویں کو زوال سے پہلے ہی جمروں کی رمی کر کے مکہ معظمہ روانہ ہوجاتے ہیں،یہ سخت برا ہے خلاف سنت ہے،جب حج کرنے اتنی دور سے اتنا خرچ کر کے آئے ہو تو اچھی طرح کرو کہ کوشش کرو کہ دسویں کو طواف زیارت کرلو تاکہ آج بارھویں کو بھاگنا نہ پڑے۔
۳
؎صرفاللّٰه اکبریابسم اللّٰه اللّٰه اکبراس کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے۔
۴
؎یہ ہی سنت ہے کہ آخری جمرہ کی رمی کے بعد وہاں نہ ٹھہرے پہلے دو جمروں کی رمی کے بعد ٹھہرے اور وہاں دعائیں مانگے،اس کی حکمتیں پہلے عرض ہوچکی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2676