Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2665

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسٍ بْنَ مَالِكٍ. قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهٗ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنًى. قَالَ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالأَبْطَحِ. ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد العزيز بن رفيع قال: سألت أنس بن مالك. قلت: أخبرني بشيء عقلته عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: أين صلى الظهر يوم التروية؟ قال: بمنى. قال: فأين صلى العصر يوم النفر؟ قال: بالأبطح. ثم قال افعل كما يفعل أمراؤك(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالعزیز ابن رفیع سے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک سے پوچھا میں نے کہا مجھے وہ چیز بتائیے جو آپ نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے سمجھی یاد کی ہو،حضور انور نے آٹھویں بقرعید کو ظہر کہاں پڑھی ۱؎فرمایا منٰی میں ۲؎عرض کیا پھر واپسی کے دن عصر کہاں پڑھی فرمایا مقام ابطح میں ۳؎پھر فرمایا جیسا تمہارے امیرکریں ویسا تم بھی کرو ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور نے آٹھویں بقرعید کو فجر تو مکہ معظمہ میں پڑھی،فرمایئے ظہرکہاں پڑھی۔
۲
؎معلوم ہوا کہ آٹھویں بقر عید کو بعد نماز فجر مکہ معظمہ سے منٰی روانہ ہوجانا سنت ہے ظہر منٰی میں پڑھے۔
۳
؎واپسی کے دن دو ہیں:نفراول یہ دسویں بقر عید کو ہے جب منٰی سے مکہ معظمہ طواف کرنے آتے ہیں اور نفردوم تیرھویں بقر عید کو جب منٰی کے افعال سے فارغ ہوکر لوٹتے ہیں،یہاں نفردوم کے متعلق سوال ہے۔جب معلوم ہورہا ہے کہ حضور انور نے آج عصر محصب یعنی ابطح میں پڑھی اور گزشتہ حدیث سے معلوم ہوا کہ ظہر یہاں پڑھی،ہوسکتا ہے کہ آج تیرھویں کو بعد زوال رمی کی ہو اور عصر کے قریب یہاں پہنچ کر ظہر و عصر یہاں ہی پڑھی ہو۔
۴
؎یعنی اب جو امیر حج کرے تم بھی کرو،اگر وہ محصب میں ٹھہرے تم بھی ٹھہرو اگر نہ ٹھہرے تم بھی نہ ٹھہرو کہ ان کی مخالفت میں خطرہ ہے،یہاں ٹھہرنا واجب نہیں تاکہ ضرور کیا جائے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2665