Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2660

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَن وَبَرَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ: مَتٰى أَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ: إِذَارَمٰى إِمَامُكَ فَارْمِهٖ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ. فَقَالَ: كُنَّا نَتَحَيَّنُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن وبرة قال: سألت ابن عمر: متى أرمي الجمار؟ قال: إذارمى إمامك فارمه فأعدت عليه المسألة. فقال: كنا نتحين فإذا زالت الشمس رمينا. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت وبرہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا ۱؎کہ میں جمروں کی رمی کب کروں فرمایا جب تمہارا امام رمی کرے تو تم بھی کر و۲؎میں نے پھر یہ ہی سوال کیا تو فرمایا ہم وقت کے منتظر رہتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تو ہم رمی کرلیتے تھے ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎وبرہ ابن عبدالرحمن تابعی ہیں،حضرت ابن عمرو سعید ابن جبیر سے روایات کرتے ہیں،آپ کی کنیت ابو خزیمہ حارثی ہے۔
۲
؎یعنی تم میں جب بڑے علماء رمی کریں تم بھی کرو،ہر مسئلہ پوچھنے کی ضرورت نہیں،علماء کی پیروی کرنا چاہیے،عالم کی پیروی کرنے والا رب سے سالم ہو کر ملے گا،یہاںیوم النحرکے بعد کی رمی کے متعلق سوال تھا جیساکہ جواب سے معلوم ہورہا ہے۔پتہ لگا کہ ہر بات عالم سے پوچھنا ہی نہ چاہیے بلکہ ان کو دیکھ کر بھی مسائل حل کرلینا چاہئیں،یہاں عالم باعمل کا ذکر ہے۔
۳
؎یعنی ہم دسویں بقر عید کے بعد کی رمی بعد نماز ظہر کیا کرتے تھے،یہاں بھی آپ نے صحابہ کا عمل ہی بتایا یعنی مسئلہ عمل علماء سے ثابت کیا۔رمی کے اوقات کا ذکر تفصیل وار پہلے ہوچکا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2660