Main Icon

باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 517

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِيْ طَالِبٍ عَنِ الْمَسْح عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ: جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيْهُنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيْمِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن شريح بن هانئ قال: سألت علي بن أبي طالب عن المسح على الخفين فقال: جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم- ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر، ويوما وليلة للمقيم. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شریح ابن ہانی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ابن ابی طالب سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا۲؎فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیئے تین دن رات اور مقیم کے لیئے ایک دن رات مقرر فرمائی ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱؎آپ تابعی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ شریف میں پیدا ہوچکے تھے،آپ کے والد ہانی صحابی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی کنیت ابو شریح رکھی،حضرت علی مرتضی کے مخصوص ساتھیوں میں سے ہیں۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ آپ کا سوال مدت مسح کے متعلق تھا نہ کہ طریقۂ مسح یا دلائل مسح کے متعلق،جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے۔
۳
؎یعنی مسافر بحالت سفر ایک بار موزے پہن کر مسلسل تین دن و رات مسح کرسکتا ہے۔اورمقیم ایک دن و رات۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم مالک احکام ہیں کہ علی مرتضی نے اس مدت کی تعیین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کی۔دوسرے یہ کہ مدتیں ان لوگوں کے لئے ہیں جو اول سے آخر تک ایک حال پررہیں،یعنی مثلًا پہنتے وقت بھی مقیم ہوں اور آخر تک مقیم رہیں۔اگر پہنتے وقت تو مقیم تھامگر مدت ختم ہونے سے پہلے مسافر ہوگیا تو اب مسافر کی مدت پوری کرے گا۔یوں ہی مسافر اگر مقیم ہوجائے تو مقیم کی مدت پوری کرے۔تیسرے یہ کہ مسح کی مدت حدث کے وقت سے شروع ہوگی کہ نہ پہننے کے وقت سے،نہ مسح کے وقت سے۔چوتھے یہ کہ شرعًا مسافر وہ ہے جو تین دن کی راہ کا سفر کرے اس سے کم سفر سے مسافر نہ ہوگا۔ورنہ ایک دن مسافت کا مسافر اس حدیث پر عمل نہیں کرسکتا،حالانکہ حدیث ہرمسافر کو عام ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 517