Main Icon

باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 519

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيْمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا. رَوَاهُ الأَثْرَمُ فِيْ "سُنَنِهٖ" وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَقَالَ الْخَطَّابِيُّ: هُوَ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ، هٰكَذَا فِيْ "الْمُنْتَقٰى".

عن أبي بكرة عن النبي صلى الله عليه وسلم : أنه رخص للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن، وللمقيم يوما وليلة، إذا تطهر فلبس خفيه أن يمسح عليهما. رواه الأثرم في "سننه" وابن خزيمة والدارقطني، وقال الخطابي: هو صحيح الإسناد، هكذا في "المنتقى".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے مسافر کو تین دن و رات کو اورمقیم کو ایک دن و رات تک موزوں پر مسح کی اجازت دی جب کہ پاک ہو کر پہنے ہوں ۲؎اثرم نے اپنی سنن میں اور ابن خزیمہ اور دار قطنی نے۔اور خطابی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے یوں ہی منتقی میں ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام شریف نفیع ہے،ثقفی ہیں،مشہورصحابی ہیں،غزوۂ طائف میں ایمان لائے،آخرعمرشریف میں بصرہ میں قیام رہا، ۴۹ھمیں وہیں وفات پائی۔
۲
؎اس کی پوری شرح اور اس سے مسائل کا استنباط پہلےگزر چکا۔عام علماء کا یہی قول ہے کہ مسافر تین دن سے زیادہ اور مقیم ایک دن سے زیادہ مسح نہیں کرسکتے۔ہاں حنفیوں کے نزدیک یہ مدت حدث کی وقت سے شروع ہوگی۔
۳
؎منتقی ابن تیمیہ حنبلی کی کتاب ہے۔(مرقاۃ)شیخ فرماتے ہیں کہ یہ خطابی کی تصنیف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 519