Main Icon

باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 520

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ صَفْوَانَ ابْنِ عَسَّالٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفْرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن صفوان ابن عسال قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يأمرنا إذا كنا سفرا أن لا ننزع خفافنا ثلاثة أيام ولياليهن إلا من جنابة، ولكن من غائط وبول ونوم. رواه الترمذي والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت صفوان ابن عسال ۱؎سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم کوحکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں ہوں تو تین دن رات موزے نہ اتاریں ۲؎مگر جنابت سے لیکن پاخانہ پیشاب اورنیند سے(موزے نہ اتاریں)۳؎(ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎مشہورصحابی ہیں،قبیلہ بنی مراد سے ہیں،کوفہ میں قیام رہا،حضور کے ساتھ بارہ غزووں میں شریک رہے۔
۲
؎یہ حکم اجازت کا ہے نہ کہ وجوبی،کیونکہ مسافرکو تین دن تک مسح کرناجائز ہے۔
۳
؎یعنی حدث اصغر میں موزوں کا مسح درست اورحدث اکبر میں ناجائز،غسل میں پاؤں دھونا ہی فرض ہیں۔اس عبارت میں عجیب لطف ہے کہاِلَّانے نفی توڑکرثبوت کیا،پھرلٰکِنْنےاِلَّاکا ثبوت توڑ کر نفی پیدا کی،اس پر نحویوں نے معرکۃ الآرا بحثیں کی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 520