Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4606

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ» قَالُوا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لم يبق من النبوة إلا المبشرات» قالوا: وما المبشرات؟ قال: «الرؤيا الصالحة» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نہ باقی رہیں نبوت سے مگر بشارتیں ۱∞؎لوگوں نے عرض کیا بشارتیں کیا ہیں فرمایا اچھی خواب ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہماری وفات پر وحی،نبوت تا قیامت ختم ہوجائے گی مگر نبوت کا ایک حصہ یعنی ڈرانا اور بشارت باقی رہے گا۔رب تعالٰی خوابوں کے ذریعہ علوم غیبیہ اگلے حالات پر اطلاع برابر جاری رکھے گا خوابیں غیبی خبریں دیتی رہیں گی،خوابیں بشارت بھی ہوتی ہیں ڈراتی بھی ہیں مگر تغلیبًا بشارت فرمایا۔(مرقات)۲؎صالحًاسے مراد یا سچی خوابیں یا اچھی خوشی کی خوابیں عمومًا خوشی کی خواب کو رؤیا کہتے ہیں اور ڈراؤنی خواب کو حلم مگر یہاں رؤیا سے عام خواب مراد ہے اچھی ہو یا ڈراؤنی۔(اشعہ و مرقات)خیال رہے کہرؤیابمعنی خواب آتا ہے مگر جب اس کے بعد رؤیت کا کوئی مشتق آجاوے تو بیداری میں دیکھنے کے بھی معنی دیتا ہے،رب فرماتاہے:" وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ"۔حضور انور نے معراج کی شب سارے عالم غیب کو اپنی آنکھوں سے بیداری میں دیکھا مگر اسے رب نے رؤیا فرمایا،چونکہ آگے آرہا ہےاریناكاس لیے وہاں آنکھ سے بیداری میں دیکھنا مراد ہوا۔معراج جسمانی کے منکر اسی لفظ رؤیا سے جسمانی معراج کا انکار کرتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4606