Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4622

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي رَزِيْنِ العُقَيْلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَهِيَ عَلٰى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا فَإِذَا حُدِّثَ بِهَا وَقَعَتْ». وَأَحْسِبُهٗ قَالَ: «لَا تُحَدِّثْ إِلَّا حَبِيبًا أَوْ لَبِيبًا».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «الرُّؤْيَا عَلٰى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرَ، فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ» . وَأَحْسِبُهٗ قَالَ: «وَلَا تَقُصَّهَا إِلَّا عَلٰى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ»

عن أبي رزين العقيلي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة وهي على رجل طائر ما لم يحدث بها فإذا حدث بها وقعت». وأحسبه قال: «لا تحدث إلا حبيبا أو لبيبا».رواه الترمذي وفي رواية أبي داود قال: «الرؤيا على رجل طائر ما لم تعبر، فإذا عبرت وقعت» . وأحسبه قال: «ولا تقصها إلا على واد أو ذي رأي»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن کی خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور وہ پرندے کے پاؤں پر ہوتی ہے جب تک اس کی خبر نہ دی جاوے جب وہ بیان کردی جاوے تو واقع ہوجاتی ہے ۲؎مجھے خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ خواب نہ بیان کرو مگر دوست سے یا عاقل سے ۳؎(ترمذی)اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا کہ پرندے کے پاؤں پر ہے جب تک تعبیر نہ دی جاوے جب تعبیر دے دی جاوے تو واقع ہوکر رہتی ہے غالبًا انہوں نے فرمایا کہ خواب نہ بیان کرو مگر محبت والے پر یا عقل والے پر۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام لقیط ابن عامر ابن صبرہ ہے،اہلِ طائف سے ہیں،مشہور صحابی ہیں۔
۲
؎اس کی شرح پہلے کی جاچکی ہے یہاں اتنا سمجھ لو کہ خواب تعبیر سے پہلے اڑتی ہوئی چڑیا ہے جو ظاہر نہیں ہوتی مگر تعبیر ہوجانے کی صورت میں ضرور واقع ہوتی ہے اور تعبیر میں پہلی تعبیر کا اعتبار ہے بعد کی تعبیر دی ہوئی کا اعتبار نہیں۔
۳
؎یعنی پہلی بارتعبیر لینے کے لیے اپنی خواب یا اپنے پیارے سے بیان کرو یا بہت سمجھ دار سے جسے خواب کی تعبیر کا علم ہو۔پیارا اگر تعبیر نہ جانتا ہوگا تو تعبیر دے گا ہی نہیں،عالم تعبیر دے گا مگر درست،بے علم بے وقوف سے خواب نہ کہو کہ وہ غلط تعبیر دے کر تمہاری خواب بگاڑ دے گا۔
حکایت: ایک عورت کا خاوند تلاش روزگار میں باہر گیا ہوا تھا عورت نے خواب میں دیکھا کہ میرے خاوند کے منہ سے کوے نکل کر اڑ رہے ہیں،اس نے اپنی پڑوسن سے بیان کیا وہ بولی کہ کوّے تو مُردے کے منہ سے اڑتے ہیں تیرا خاوند مرگیا ہوگا،پھر وہ عالم وقت کے پاس گئی انہوں نے فرمایا کہ تیرا خاوند توپ خانہ کا مالک کردیا گیا ہے،کچھ روز بعد اس کی موت کی خبر آگئی تو وہ پھر ان عالم کے پاس گئی اور ماجرا بیان کیا،عالم نے فرمایا کہ خواب کی پہلی تعبیر ہی ہوتی ہے تو نے اس نادان عورت سے اپنی خواب کہہ کر تعبیر خراب کرلی۔
۴
؎کیونکہ خواب بظاہر کبھی بری ہوتی ہے لیکن درحقیقت اچھی کبھی برعکس اس لیے خواب اہل علم اور فن تعبیر جاننے والے سے کہو جو حقیقت تک پہنچ سکیں۔دشمن اپنی عداوت سے،بے وقوف اپنی حماقت سے اچھی خواب کو بری کردے گا بری تعبیر دے کر بلکہ بری خواب کی تعبیر ہی نہ دے کچھ صدقہ دلوادے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4622