Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4608

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الرؤيا الصالحة جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اچھی خواب ۱∞؎نبوت کا چھیالیسواں ہے ۲؎(مسلم و بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎رؤیا صالحہسے مراد سچی خواب ہے جو نہ شیطانی وسوسہ سے ہو نہ دل کے خیالات سے بلکہ خاص رحمان کی طرف سے ہو جس قدر تقویٰ اعلیٰ اس قدر خوابیں سچی ہوتی ہیں۔خیال رہے کہ کبھی کفار و فساق کی خوابیں بھی سچی ہوتی ہیں،شاہ مصر کافر تھا مگر اس نے آیندہ کے سات سال کی قحط سالی بالیوں کی شکل میں دیکھی، حضرت یوسف علیہ السلام نے تعبیر دی اور وہ خواب سچی تھی اس کی اس خواب کے بہت اعلیٰ نتیجے ہوئے۔
۲
؎اس کا حقیقی مطلب رب تعالٰی جانے یا اس کے محبوب صلی الله علیہ و سلم۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حضور کی نبوت کا زمانہ تئیس سال ہے اور ظہور نبوت سے پہلے چھ ماہ یعنی نصف سال آپ کو بہت ہی سچی اور اعلیٰ خوابیں آئیں تو زمانہ خواب زمانہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اس لیے خواب کو چھیالیسواں حصہ فرمایا گیا۔والله اعلم!بعض روایا ت میں ہے سترواں حصہ ہے،بعض میں ہے پچاسواں حصہ ہے۔ فرماتے ہیں صلی الله علیہ وسلم کے اچھے اخلاق اور میانہ روی نبوت کا چوبیسواں حصہ ہے لہذا چاہیے یہ کہ فرمان پر ایمان لاؤ مطلب الله رسول کے سپرد کرو، بعض نے فرمایا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو چھیالیس خصوصی صفات عالیہ عطا ہوئیں جن میں سے ایک صفت اچھی خواب ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے عدد خاص مراد نہیں بلکہ زیادتی بیان کرنا مقصود ہے یا یہ کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو وحی چھیالیس قسم کی ہوئی ہے بلاواسطہ جبریل،بواسطہ جبریل، پھر گھنٹہ کی سی آواز،صاف بیان حق تعالٰی کا خواب میں کچھ فرمادینا حتی کہ معراج میں مشاہدہ جمال کراکر کلام فرمایا ان چھیالیس حصہ سے ایک خواب بھی ہے لہذا یہ خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔(اشعہ)خیال رہے کہ حضور پر نبوت ختم ہو چکی مگر نبوت کے اوصاف تاقیامت باقی ہیں اوصاف نبوت یا اجزاء نبوت بعینہ نبوت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4608