Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4612

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللّٰهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأٰى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثُ بِهٖ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ وَإِذَا رَأٰى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللّٰهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَلْيَتْفُلْ ثَلَاثًا وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الرؤيا الصالحة من الله والحلم من الشيطان فإذا رأى أحدكم ما يحب فلا يحدث به إلا من يحب وإذا رأى ما يكره فليتعوذ بالله من شرها ومن شر الشيطان وليتفل ثلاثا ولا يحدث بها أحدا فإنها لن تضره»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اچھی خواب الله کی طرف سے ہے اور بری خواب شیطان کی طرف سے ۱∞؎تو جب تم میں سے کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو اپنے پیارے کے سوا کسی سے بیان نہ کرے ۲؎اور جب ناپسند بات دیکھے تو اس کی شر سے اور شیطان کی شر سے الله کی پناہ مانگے اور تین بار تھوک دے اور اس کی خبرکسی کو نہ دے تو وہ خواب اسے مضر نہ ہوگی ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اچھے خواب کو رؤیا کہتے ہیں اور برے خواب کوحلم،اسی سے ہےاضغاث احلاماسی سے بنا ہے احتلام، اگرچہ ساری خوابیں رب تعالٰی کی طرف سے ہوتی ہیں مگر بارگاہِ الٰہی کا ادب یہ ہے کہ بُری اور ڈراؤنی خوابوں کو شیطان کی طرف سے نسبت دے کیونکہ مسلمان کی بری خوابوں سے بہت خوش ہوتا ہے۔(مرقات)بہرحال اچھی خواب رب کی بشارت ہے تاکہ مسلمان الله کی رحمت کا منتظر اور شکر میں مشغول ہوجائے بری خواب مایوس کن ہے اور مایوسی شیطانی عمل ہے۔
۲
؎یعنی اچھی خواب ضرور بیان کرے تاکہ اس کا ظہور ہوجائے مگر بیان کرے ایسے عالم معتبر سے جو اس کا دوست و خیرخواہ ہو تاکہ وہ تعبیر خراب نہ دے اچھی تعبیر دے خواب کی پہلی تعبیر ہی پر خواب کا ظہور ہوتا ہے۔
۳
؎یہ عمل بہت مجرب ہے کیسی ہی خطرناک خواب دیکھو یہ عمل کرلوان شاءاللهاس کا ظہور کبھی نہ ہوگا، اچھی خواب الله کی نعمت ہے اس کا چرچہ کرو"وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ"اور بری خواب بلا و امتحان ہے اس پر صبرکرو کسی سے نہ کہو رب سے عرض کروان شاءاللهدفع ہوجائے گی۔(مرقات)چونکہ حضور کے خطرناک خواب بھی رب کی طرف سے ہوتے تھے اس لیے حضور لوگوں سے انکا ذکر فرمادیتے پھر ان کا ظہور بھی ہوتا تھا جیسے حضور نے خواب میں تلوار ٹوٹتی دیکھی اس کا ظہور غزوہ احد کی تکالیف کی شکل میں نمودار ہوا، ہاتھوں پر بھاری کنگن دیکھے ان کا ظہور مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی سے ہوا لہذا حضورانور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان حضور کے اس عمل شریف کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4612