Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4611

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ وَلَايَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من رآني في المنام فسيراني في اليقظة ولايتمثل الشيطان بي»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا ۱∞؎اور شیطان میری شکل نہیں بن سکتا۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کے بھی چند معنی کیے گئے: ایک یہ کہ جس صحابی نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے قیامت میں بیداری میں دیکھے گا۔دوسرے یہ کہ جس مسلمان نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے قیامت میں بیداری میں دیکھے گا۔تیسرے یہ کہ جس مسلمان نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے اپنی زندگی ہی میں بیداری میں دیکھے گا۔ خواص اولیاء تو ظاہر ظہور دیکھیں گے ہم جیسے عوام جن میں ضبط کا مادہ نہیں راز چھپا نہیں سکتے وہ مرتے وقت جب زبان بند ہوجائے گی تب پہلے مجھے دیکھیں گے بعد میں وفات پائیں گے تاکہ وہ راز ظاہر نہ کرسکیں۔چنانچہ حضرت عبدالله ابن عباس نے ایک بار حضور صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا بیدار ہوکر اس حدیث میں غور کیا اور سوچا کہ اب میں حضور انور کو بیداری میں کیونکر دیکھوں گا،آپ اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کے گھر تشریف لائے حضرت میمونہ نے حضور کا آئینہ آپ کو دیا جس میں حضور انور اپنا چہرہ انور دیکھا کرتے تھے حضرت ابن عباس نے جب آئینہ دیکھا تو اس میں بجائے اپنی صورت کے حضور کی صورت شریف نظر آئی اپنی صورت بالکل نظر نہ آئی،دیکھو اشعۃ اللمعات یہ ہی مقام۔چوتھے یہ کہ میرے زمانہ حیات شریف میں جو مسلمان مجھ تک نہ پہنچ سکا اس نے مجھے خواب میں دیکھ لیا وہان شاءاللهعنقریب مجھ تک پہنچ جائے گا اور میری زیارت کرلے گا مگر تیسرے معنی بہت قوی ہیں اور یہ بشارت عام مسلمانوں کے لیے ہے۔
۲
؎یہ حضور کا وہ معجزہ ہے جو تاقیامت باقی ہے کہ جیسے شیطان زندگی شریف میں آپ کی شکل اختیار نہیں کرسکتا تھا یوں ہی تاقیامت کسی کے خواب میں حضور کی شکل میں نہیں آسکتا حضور انور کے سواء اور تمام کی شکلوں میں آجاتا ہے،خواب میں باتیں کرجاتا ہے مرد یا عورت کو احتلام اس کی مہربانی سے ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4611