Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5437

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَكْثُرَ الْجَهْلُ، وَيَكْثُرَ الزِّنَا، ويكثُرَ شُربُ الخمرِ، ويقِلَّ الرِّجالُ، وتكثُرَ النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ". وَفِي رِوَايَةٍ: "يَقِلُّ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أنس قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم، ويكثر الجهل، ويكثر الزنا، ويكثر شرب الخمر، ويقل الرجال، وتكثر النساء، حتى يكون لخمسين امرأة القيم الواحد". وفي رواية: "يقل العلم، ويظهر الجهل". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کی نشانیوں سے یہ ہے کہ علم اٹھالیا جاوے گا اور جہالت بڑھ جاوے گی ۱∞؎اور زنا شراب خواری بڑھ جاوے گی ۲؎اور مرد کم ہوجاویں گے اور عورتیں زیادہ ہوجائیں گی ۳؎حتی کہ پچاس عورتیں ایک مرد منتظم ہوگا۴؎ایک روایت میں ہے کہ علم گھٹ جاوے گا اور جہالت ظاہر ہو جاوے گی ۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎علم سے مراد علم دین ہے۔جہل سے مراد دین علم سے غفلت آج یہ علامت شروع ہوچکی ہے دنیاوی علوم بہت ترقی پر ہیں مگر علوم تفسیر،حدیث، فقہ بہت کم رہ گئے،علماء اٹھتے جارہے ہیں،ان کے جانشین پیدا نہیں ہوتے،مسلمانوں نے علم دین سیکھنا قریبًا چھوڑ دیا،بہت سے علماء واعظ بن کر اپنا علم کھو بیٹھے،یہ سب کچھ اس پیش گوئی کا ظہور ہے۔۲؎زنا کی زیادتی کے اسباب عورتوں کی بے پردگی،اسکولوں کالجوں لڑکوں لڑکیوں کی مخلوط تعلیم،سنیما وغیرہ کی بے حیائیاں گانے، ناچنے کی زیادتیاں یہ سب آج موجود ہیں،ان وجوہ سے زنا بڑھ رہا ہے اور ابھی اور زیادہ بڑھے گا۔ہم نے عرب ممالک کے بعض علاقوں میں دیکھا کہ بغیر شراب کوئی کھانا نہیں ہوتا،ہوٹل میں کھانا مانگو تو شراب ساتھ آتی ہے۔۳؎اس طرح کہ لڑکیاں زیادہ پیدا ہوں گی لڑکے کم،پھر مرد جنگوں وغیرہ میں زیادہ مارے جائیں گے اپنے بیوی بچے چھوڑ جائیں گے ان وجوہ سے عورتوں کی بہتات ہوگی۔۴؎اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک خاوند کی پچاس بیویاں ہوں گی کہ یہ تو حرام ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایک خاندان میں عورتیں بیٹیاں پچاس ہوں گی ماں،دادی،خالہ،پھوپھی وغیرہ اور ان کا منتظم ایک مرد ہوگا۔دوسری احادیث میں ہے کہ قریب قیامت سنگِ اسود اور مقام ابراہیم اٹھالیا جاوے گا،قیامت کے قریب دنیا میں اللہ اللہ کہنے والا نہ ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5437