Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5444

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَقِيءُ الأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الأُسْطُوَانَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي، وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قُطِعتْ يَدِي، ثم يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "تقيء الأرض أفلاذ كبدها أمثال الأسطوانة من الذهب والفضة، فيجيء القاتل فيقول: في هذا قتلت، ويجيء القاطع فيقول: في هذا قطعت رحمي، ويجيء السارق فيقول: في هذا قطعت يدي، ثم يدعونه فلا يأخذون منه شيئا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے چاندی کے ستونو ں کی شکل میں قے کردے گی ۱∞؎تو قاتل آئے گا کہے گا کہ میں نے اس میں قتل کیا اور رشتے توڑنے والا آئے گا تو کہے گا کہ میں نے اس کے لیے اپنے رشتے توڑے اور چور آئے گا تو کہے گا کیا اس کی وجہ سے میرے ہاتھ کاٹے گئے ۲؎پھر وہ لوگ یہ سب کچھ چھوڑ دیں گے تو اس میں سے کچھ نہ لیں گے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎افلاذجمع ہےفلذۃکی بمعنی ٹکڑا،جگر کے ٹکڑوں سے مراد ہے زمین کا خلاصہ۔اس سے مراد ہے سونے چاندی کے دفینے یا کانیں یا دیگر معدنیات یا زمین کی پیداوار گندم وغیرہ جس سے سونا چاندی حاصل ہو۔اس کی شرح وہ آیت ہے "وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَاممکن ہے کہ حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہو اور زمین سے سونے چاندی کی سلاخیں نمودار ہوں مگر پہلے معانی زیادہ قوی معلوم ہوتے ہیں۔ان معانی سے یہ پیش گوئی پوری ہوچکی،اب زمین سے پیداوار بے شمار ہو رہی ہے،ولایتی کھاد اور ٹیوب ویل کے پانی نے ویرانوں کو آباد زمین میں تبدیل کردیا،ہر چیز کی پیداوار بہت بڑھ چکی ہے مگر آخری معنی کی تائید حدیث پاک کے آخری الفاظ سے ہورہی ہے۔۲؎یعنی اس وقت سونا چاندی بہت حقیر ہوجائیں گے،ان کی بہتات انہیں معمولی چیز بنادے گی تب یہ مجرمین افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ افسوس اس حقیر چیز پر ہمارے اعضاء کاٹے گئے یہ وقت ابھی نہیں آیا ہے لیکن اگر دولت کی زیادتی ایسی ہی ہوتی رہے تو وہ وقت بھی قریب ہی ہے۔۳؎یعنی یہ ہی چور وغیرہ اس سونے چاندی کو ہاتھ نہ لگائیں گے،یہ وقت بھی ابھی نہیں آیا ابھی خوب دھڑاکے سے کہ چوری رشوت خوری ظلم و زیادتی ہورہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5444