Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5441

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يُقَسِّمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ". وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: "يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يكون في آخر الزمان خليفة يقسم المال ولا يعده". وفي رواية: قال: "يكون في آخر أمتي خليفة يحثي المال حثيا ولا يعده عدا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آخر زمانہ میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال بانٹے گا اور اسے گنے گا نہیں ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو لپ بھر بھر کر مال دے گا اور اسے گنے گا نہیں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ بادشاہ غالبًا امام مہدی ہوں گے جو اور خوبیوں کے ساتھ نہایت ہی سخی ہوں گے۔۲؎اس روایت اور پہلی روایت میں فرق صرف چند لفظوں کا ہے مطلب ایک ہی ہے یعنی اس خلیفہ کے زمانہ میں فتوحات،غنیمتیں دوسرے مال بہت کثرت سے ہوں گے،بادشاہ نہایت سخی ہوگا اس لیے تقسیم کی کثرت کا یہ حال ہوگا کہ لوگوں کو بادشاہ مال دے گا اور گنے گا نہیں،بے گنتی دے گا۔بعض شارحین نے فرمایا کہلایعدکے معنی یہ ہیں کہ وہ بادشاہ کل کے لیے مال اٹھا کر نہ رکھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5441