Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5463

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: فُقِدَ الْجَرَادُ فِي سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا، فَاهْتَمَّ بِذَلِكَ هَمًّا شَدِيدًا، فَبَعَثَ إِلَى الْيَمَنِ رَاكِبًا وَرَاكِبًا إِلَى الْعِرَاقِ وَرَاكِبًا إِلَى الشَّامِ يَسْأَلُ عَنِ الْجَرَادِ هَلْ أُرِيَ مِنْهُ شَيْئًا؟ فَأَتَاهُ الرَّاكِبُ الَّذِي مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ بِقَبْضَةٍ فَنَثَرَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَآهَا عُمَرُ كَبَّرَ، وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ أَلْفَ أُمَّةٍ سِتُّ مِئَةٍ مِنْهَا فِي الْبَحْرِ وَأَرْبَعُ مِئَةٍ فِي الْبَرِّ، فَإِنَّ أَوَّلَ هَلَاكِ هَذِهِ الأُمَّةِ الْجَرَادُ، فَإِذَا هَلَكَتِ الْجَرَادُ، تَتَابَعَتِ الأُمَمُ كَنِظَامِ السِّلْكِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن جابر بن عبد الله قال: فقد الجراد في سنة من سني عمر التي توفي فيها، فاهتم بذلك هما شديدا، فبعث إلى اليمن راكبا وراكبا إلى العراق وراكبا إلى الشام يسأل عن الجراد هل أري منه شيئا؟ فأتاه الراكب الذي من قبل اليمن بقبضة فنثرها بين يديه، فلما رآها عمر كبر، وقال سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن الله عز وجل خلق ألف أمة ست مئة منها في البحر وأربع مئة في البر، فإن أول هلاك هذه الأمة الجراد، فإذا هلكت الجراد، تتابعت الأمم كنظام السلك". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن عبدالله سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے برسوں میں اس برس جس میں آپ کی وفات ہوئی ٹڈی گم ہوگئی تو آپ اس سے سخت غمگین ہوئے ۱∞؎تو آپ نے ایک سوار یمن کی طرف اور ایک سوار عراق کی طرف اور ایک سوار شام کی طرف بھیجا ٹڈی کے متعلق سوال فرماتے تھے کہ کیا کچھ ٹڈیاں دیکھی گئیں تو آپ کے پاس وہ سوار جو یمن گیا تھا مٹھی بھر ٹڈیاں لایا اور آپ کے سامنے بکھیر دیں جب انہیں دیکھا تو حضرت عمر نے تکبیر کہی۲؎اور فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ الله عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کیں۳؎جن میں سے چھ سو دریا میں ہیں اور چار سو خشکی میں ۴؎اور سب سے پہلے ہلاکت میں ٹڈی ہے،جب ٹڈی ہلاک ہوجاوے گی تو دوسری امتیں لگاتار ہلاک ہوں گی جیسے لڑی کا دھاگہ ۵؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎آپ نے سمجھا کہ ٹڈی دنیا سے ختم ہوگئی اور یہ ختم ہونا دوسری مخلوق کے ختم ہوجانے کی علامت ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے۔یہ حضرت عمر رضی الله عنہ کے خوف الٰہی کی انتہا ہے ورنہ آپ کو معلوم تھا کہ ابھی مسلمان بلکہ صحابہ کرام زندہ ہیں،قرآن باقی ہے دجال وغیرہ نہیں ظاہر ہوئے ابھی قیامت کیسی،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پانچ سو سال بعد قیامت آوے گی،یہ ایسا ہی ہے جیسے حضور صلی الله علیہ و سلم پر بادل دیکھ کر خوف کے آثار نمودار ہوجاتے تھے۔۲؎یعنی آپ نے نعرہ تکبیر بلند فرمایا خوشی سے کہالحمدﷲابھی امان ہے۔معلوم ہوا کہ ٹڈی یمن و برکت والا جانور ہے،ہاں کبھی عذاب الٰہی بن کر بھی آتا ہے جیسے پانی برکت والی چیز ہے مگر اس کا سیلاب عذاب ہے ہر چیز میں رحمت عذاب کی جہتیں ہیں۔معلوم ہوا کہ خوشی میں نعرہ تکبیر لگانا سنت صحابہ ہے اسے منع قرار دینا جہالت ہے۔۳؎اصولی امتیں ایک ہزار ہیں،فروعی امتیں اٹھارہ ہزار جیسے گھوڑا ایک مخلوق ہے خچر اس میں داخل،سانپ ایک مخلوق ہے اس کی قسمیں اسی ایک میں داخل لہذا روایات میں تعارض نہیں بلکہ امتیں تو لاکھوں قسم کی ہیں اٹھارہ ہزار عالم ہیں یا جاندار اصولی مخلوق ایک ہزار ہے باقی مخلوق بہت زیادہ۔۴؎خشکی کا ہر جانور سمندر میں موجود ہے جیسے دریائی انسان،دریائی سؤر،دریائی شیر،دریائی گھوڑا،گائے۔میں نے دریائی بھینس دیکھی ہے مگر دریائی ہر جانور خشکی میں نہیں۔چنانچہ خشکی میں مچھلی،مگرمچھ،گھڑیال وغیرہ نہیں لہذا دریائی مخلوق زیادہ ہے۔۵؎کہ جیسے تسبیح کا دھاگہ ٹوٹنے پر دانے لگاتار آگے پیچھے گرتے ہیں ایسے ہی ان قوموں کی موت مسلسل واقع ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5463