Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5443

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِئَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَيَقُولُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ: لَعَلِّي أَكُونُ أَنَا الَّذِي أنجُو". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تقوم الساعة حتى يحسر الفرات عن جبل من ذهب يقتتل الناس عليه، فيقتل من كل مئة تسعة وتسعون، ويقول كل رجل منهم: لعلي أكون أنا الذي أنجو". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ قائم ہوگی قیامت حتی کہ فرات سونے کے پہاڑ سے کھل جاوے گا ۱∞؎اس پر لوگ آپس میں جنگ کریں گے تو ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل ہوجاویں گے ان میں سے ہر شخص یہ ہی کہے گا کہ شاید میں ہی وہ ہوں جو نجات پا جائے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہاں بھی وہ ہی واقعہ ارشاد ہوا جس کا ذکر ابھی پہلے ہوا،عبارت مختلف ہے مقصد ایک ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ دوسرا واقعہ ہے،یہاں پہاڑ سے مراد بیشمار سونا ہے یعنی پہاڑ بھر سونا ظاہری پہاڑ مراد نہیں ۔(اشعہ و مرقات)۲؎اس سونے پر سلطنتیں جنگ کریں گی عوام لڑیں گے۔غرضکہ سونا کیا ہوگا جنگ وجدال کی جڑ اور اللہ کا عذاب ہوگا،ہر شخص یہ ہی آس لگائے گا کہ شاید یہ سارا مجھے مل جائے چلو قسمت آزمائی کروں ا ور لوگوں سے لڑوں بھڑوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5443