Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5461

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ قَدْ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ خُرَاسَانَ فَأْتُوهَا، فَإِنَّ فِيهَا خَلِيفَةَ اللَّهِ الْمَهْدِيَّ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِل النُّبُوَّةِ".

وعن ثوبان قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا رأيتم الرايات السود قد جاءت من قبل خراسان فأتوها، فإن فيها خليفة الله المهدي". رواه أحمد والبيهقي في "دلائل النبوة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جب تم کالے جھنڈے دیکھو ۱∞؎کہ خراسان کی طرف آرہے ہیں ۲؎تو تم وہاں جانا کیونکہ اس میں اکا خلیفہ مہدی ہے ۳؎(احمد،بیہقی دلائل النبوۃ)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں خطاب حضرات صحابہ سے نہیں بلکہ عام مسلمانوں سے ہے کیونکہ یہ واقعہ حضرات صحابہ کے زمانہ میں نہیں بلکہ قریب قیامت ہے اگرچہ اس وقت خضر علیہ السلام موجود ہوں گے،یہ حضور صلی الله علیہ و سلم کے صحابی نہیں،نیز بعض جنات صحابہ ہوں گے مگر وہ زمانہ صحابہ کرام کا زمانہ نہیں ہوگا لہذا خطاب عام ہے۔۲؎یعنی اسلام کا عظیم الشان اور جرار لشکر جو بہت سے جھنڈوں کے تلے ہوگا۔غالبًا یہ لشکر جرار حارث اور منصور کا ہوگا جن کا ذکر پہلے ہوچکا۔۳؎یعنی اس لشکر میں امام مہدی بذات خود سپاہیانہ شان سے ہوں گے۔آپ اس وقت خلیفہ نہ بنے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ اس لشکر پر امام مہدی کا ہاتھ ہوگا ان کی نصرت ہوگی لہذا یہ حدیث اس فرمان عالی کے خلاف نہیں کہ حضرات امام مہدی کا ظہور حرمین شریفین کے درمیان ہوگا کہ وہ وقت آپ کی خلافت کے ظہور کا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیاہ رنگ ماتمی نہیں جو کہ روافض کا خیال ہے،فتح مکہ کے دن حضور صلی الله علیہ و سلم کا عمامہ سیاہ تھا،ان جھنڈوں کا رنگ سیاہ ہی ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5461