Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5451

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا فَعَلَتْ أُمَّتِي خَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً حَلَّ بِهَا الْبَلَاءُ" وَعَدَّ هَذِهِ الْخِصَالَ وَلَمْ يَذْكُرْ "تُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ"،قَالَ: "وَبَرَّ صَدِيقَهُ وَجَفَا أَبَاهُ"، وَقَالَ: "وَشُرِبَ الْخَمْرُ وَلُبِسَ الْحَرِيرُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن علي قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا فعلت أمتي خمس عشرة خصلة حل بها البلاء" وعد هذه الخصال ولم يذكر "تعلم لغير الدين"،قال: "وبر صديقه وجفا أباه"، وقال: "وشرب الخمر ولبس الحرير". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب میری امت پندرہ خصلتیں اختیار کرے ۱∞؎تو ان پر بلا نازل ہوگی اور یہ مذکورہ خصلتیں گنوائیں اور نہیں ذکر کیا کہ علم سیکھا جاوے غیر دین کے لیے ۲؎فرمایا کہ اپنے دوست سے سلوک اپنے باپ پر ظلم کرے فرمایا اور شراب پی جاوے اور ریشم پہنا جاوے ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وہ ہی عیوب جو ابھی مذکور ہوئے غنیمت کو دولت بنانے سے لے کر شراب پینے کے ذکر تک۔۲؎یہ قول صاحب مصابیح کا ہے،چونکہ مذکورہ حدیث میں سولہ عیوب کا ذکر ہے اور آپ فرمارہے ہیں پندرہ اس لیے فرمایا کہ حضرت علی نے ایک عیب کا ذکر نہ فرمایا یعنی علم دین سیکھنا دنیا کے لیے۔۳؎یعنی اس روایت کے بعض الفاظ پہلی حدیث کے بعض الفاظ کے کچھ خلاف ہیں مگر معنی مطلب ایک ہی ہے وہاں تھاادنیٰیہاں ہےبر،وہاں تھااقصیٰیہاں ہےجفا،وہاں تھاالخموریہاں ہےالخمر،وہاں ریشم پہننے کا ذکر نہ تھا یہاں ہے مگر یہاں لعنت کا ذکر نہیں اس کی بجائے ریشم پہننے کا ذکر ہے اور بجائے تعلیم دین کے یہ ہوتو اس میں بھی سولہ عیوب کا ذکر ہوجاوے گا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5451