Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5459

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الإِنْسَ، وَحَتَّى تُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكُ نَعْلِهِ، وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "والذي نفسي بيده لا تقوم الساعة حتى تكلم السباع الإنس، وحتى تكلم الرجل عذبة سوطه وشراك نعله، ويخبره فخذه بما أحدث أهله بعده". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ قیامت نہ آئے گی حتی کہ درندے انسانوں سے باتیں کریں گے ۱∞؎اور حتی کہ آدمی سے اس کے کوزے کا پھندنا ا ور اس کے جوتے کا تسمہ باتیں کرے گا اور اس کی ران اسے وہ سب خبر دے گی جو اس کے گھر والوں نے اس کے پیچھے کیا۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہر قسم کے درندے خواہ چرندے ہوں جیسے شیر بھیڑیا وغیرہ یا پرندے جیسے باز شکر ہ وغیرہ ہر قسم کے انسان سے باتیں کریں گے اس انسان کی زبان میں جو اس کی مادری ہو۔حدیث بالکل ظاہر پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔مؤمن و کافر ہر انسان سے کلام کریں گے، اولیاء الله سے تو آج بھی کلام کرتے ہیں بلکہ ان سے شجرو حجر کلام کرتے ہیں۔مولانا فرماتے ہیں شعر
نطق آب و نطق خاک و گل ہست محسوس حواس اہل دل
فلسفی گو منکر حنانہ است از حواس اولیاء بیگانہ است
۲
؎یعنی ایسی مشینیں ایجاد ہوجاویں گی جو انسانوں کے کلام بلکہ کام کو کیچ کرلیا کریں گی وہ مشینیں دیواروں، جوتوں،کواڑوں میں فٹ ہوں گی اور اسے ہر بات بتائیں گی۔موجودہ سائنس نے ان چیزوں کو ممکن بلکہ قریب الوقوع بنا دیا،درودیواروں سے تو اب بھی آوازیں آرہی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5459