Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5457

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: "ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بَلَاءً يُصِيبُ هَذِهِ الأُمَّةَ، حَتَّى لَا يَجدَ الرَّجُلُ مَلْجأ يَلْجَأُ إِلَيْهِ مِنَ الظُّلْم، فَيَبْعَثُ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ عِتْرتِي وَأَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلأُ بِهِ الأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا، يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الأَرْضِ، لَا تَدَع السَّمَاءُ مِنْ قَطْرِهَا شَيْئًا إِلَّا صَبَّتْهُ مِدْرَارًا،وَلَا تَدَعُ الأَرْضُ مِنْ نَبَاتِهَا شَيْئًا إِلَّا أَخْرَجَتْهُ، حَتَّى يَتَمَنَّى الأَحْيَاءُ الأَمْوَاتَ، يَعِيشُ فِي ذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانَ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ". رَوَاهُ.

وعن أبي سعيد قال: "ذكر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بلاء يصيب هذه الأمة، حتى لا يجد الرجل ملجأ يلجأ إليه من الظلم، فيبعث الله رجلا من عترتي وأهل بيتي فيملأ به الأرض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا، يرضى عنه ساكن السماء وساكن الأرض، لا تدع السماء من قطرها شيئا إلا صبته مدرارا،ولا تدع الأرض من نباتها شيئا إلا أخرجته، حتى يتمنى الأحياء الأموات، يعيش في ذلك سبع سنين أو ثمان سنين أو تسع سنين". رواه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اس بلا کا ذکر فرمایا جو اس امت کو پہنچے گی حتی کہ آدمی جائے پناہ نہ پائے گا جہاں ظلم سے پناہ لے تو الله تعالٰی میری اولاد اور میرے گھر والوں سے ایک شخص کو بھیجے گا کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جیسے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی اس سے آسمان وزمین کے رہنے والے راضی ہوں گے ۱∞؎آسمان اپنا کوئی قطرہ نہ چھوڑے گا مگر وہ برسا دے گا بہتا ہوا ۲؎اور زمین اپنی کوئی سبزی نہ چھوڑے گی مگر اگا دے گی ۳؎حتی کہ زندہ لوگ مردوں کی تمنا کریں گے ۴؎وہ اسی حالت میں سات سال یا آٹھ سال یا نو سال زندہ رہیں گے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی امام مہدی سے دنیا کے لوگ آسمانوں کے فرشتے خوش ہوں گے کیونکہ وہ سلطان عادل بھی ہوں گے ولی کامل بھی،سلطان عادل سے زمین والے خوش رہتے ہیں اور ولی کامل سے آسمان والے راضی لہذا یہ فرمان عالی بالکل درست ہے۔۲؎یعنی بوقت ضرورت بارش ہوگی اور پوری ہوگی نہ کم کہ پیداوار کم ہو،نہ زیادہ کہ کھیت تباہ ہوجاوے۔اس فرمان عالی کا یہ مطلب ہے یعنی ضرورت والی بارش پوری آئے گی،یہ مطلب نہیں کہ جتنا پانی سمندروں میں ہے سب ہی برس جاوے گا کہ پھر تودنیا تباہ ہوجاوے ۔۳؎یعنی جس قدر پیداوار ہوسکتی ہیں وہ ہوگی اور جس قسم کی چیزیں زمین سے پیدا ہوسکتی ہیں وہ سب پیدا ہوجائیں گی ہر قسم کے دانہ پھل نہایت کثرت سے ہوں گے۔الله تعالٰی اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دے گا،جب بادشاہ اچھا ہو تو الله تعالٰی کی رحمت بہت ہوتی ہے۔۴؎یعنی زندہ لوگ آرزو کریں گے کہ ہمارے مردے آج زندہ ہوتے تو وہ بھی آج کی برکتیں رحمتیں دیکھتے اور ان سے فائدے اٹھاتے۔۵؎یہ شک راوی کو ہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے سات سال فرمائے یا آٹھ سال یا نو سال مگر گزشتہ حدیث سے ثابت ہوا کہ سات سال کی روایت قوی ہے۔یہاں مشکوۃ شریف نے سفید جگہ چھوڑی ہے تاکہ معلوم ہو کہ اس حدیث کا مخرج صاحب مشکوۃ کو نہ ملا مگر اسے حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5457