- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5456
باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5456
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ، فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمقَامِ، وَيُبْعَثُ إِلَيهِ بَعْثٌ مِنَ الشَّامِ، فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ، ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ،فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ، وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ، وَيُلْقِي الإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ فِي الأَرْضِ، فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ، ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلمُونَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وعن أم سلمة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يكون اختلاف عند موت خليفة، فيخرج رجل من أهل المدينة هاربا إلى مكة، فيأتيه ناس من أهل مكة فيخرجونه وهو كاره، فيبايعونه بين الركن والمقام، ويبعث إليه بعث من الشام، فيخسف بهم بالبيداء بين مكة والمدينة، فإذا رأى الناس ذلك أتاه أبدال الشام وعصائب أهل العراق فيبايعونه، ثم ينشأ رجل من قريش أخواله كلب،فيبعث إليهم بعثا فيظهرون عليهم، وذلك بعث كلب، ويعمل في الناس بسنة نبيهم، ويلقي الإسلام بجرانه في الأرض، فيلبث سبع سنين، ثم يتوفى ويصلي عليه المسلمون". رواه أبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ ایک خلیفہ کے وفات وقت اختلاف ہوگا ۱∞؎تو ایک شخص اہل مدینہ سے مکہ معظمہ کی طرف بھاگتے ہوئے نکلے گا۲؎تو مکہ والوں میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اسے باہر لائیں گے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتا ہوگا۳؎یہ لوگ اس سے مقام ابراہیم اور سنگ اسود کے درمیان بیعت کریں گے ۴؎اور ان کی طرف شام سے ایک لشکر بھیجا جائے گا اسے مکہ و مدینہ کے درمیان ایک میدان میں دھنسا دیا جاوے گا ۵؎جب لوگ یہ دیکھیں گے تو ان کے پاس شام کے ابدال اور عراق والوں کی جماعتیں آئیں گی تو اس سے بیعت کرلیں گے۶؎پھر قریش کا ایک شخص نکلے گا جس کے ماموں بنو کلب ہوں گے وہ ان کی طرف ایک لشکر بھیجے گا وہ ان پر غالب آئیں گے ۷؎یہ بنی کلب کا لشکر ہوگا وہ لوگوں میں ان کے نبی کی سنت پر عمل کرے گا ۸؎اور اسلام زمین میں اپنی گردن بچھادے گا ۹؎پھر وہ سات سال قیام کریں گے پھر وفات پاجائیں گے اور ان پر مسلمان نماز پڑھیں گے ۱۰؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎اس خلیفہ کا نام معلوم نہیں ہوسکا مگر یہ آخری خلیفہ ہوگا جس کے بعد امام مہدی خلیفہ ہوں گے پارلیمنٹ کے ممبروں میں اختلاف ہوگا کہ کسے خلیفہ چنیں۔۲؎یعنی جس شہر میں اس خلیفہ کا انتقال ہوگا اور جہاں دوسرے خلیفہ کا چناؤ ہونے والا ہو گا وہاں ہی یہ صاحب رہتے ہوں گے،وہ اس خوف سے سب سے نکل جاویں گے کہ لوگ انہیں ہی خلیفہ نہ چن لیں سلطنت سے نفرت کرتے ہوئے نکلیں گے۔جو حکومت سے متنفر ہو اس کا حاکم بننا مبارک ہوتا ہے اور جو حکومت کا طالب ہو اس کا حاکم بننا فساد کا باعث ہے۔یہاں مدینہ منورہ سے مراد یا مدینہ منورہ ہے یا وہ شہر جہاں خلیفہ کا چناؤ ہورہا ہوگا مگر خیال رہے کہ وہ خلیفہ مدینہ منورہ میں نہیں ہوگا جس کا انتقال ہوا ہوگا۔خلافت عثمان کے بعد ہی مدینہ منورہ سے خلافت منتقل ہوچکی حضرت امیر معاویہ کی یہ پیشگوئی درست ہوئی کہ مدینہ میں خلیفہ کا قتل ہوا اب مدینہ سے خلافت منتقل ہوگئی۔چنانچہ اب تک کوئی خلیفہ مدینہ منورہ میں نہیں رہا نہ آئندہ رہنے کی امید ہے۔۳؎یعنی وہ مکہ مکرمہ میں کسی گھر میں تشریف فرما ہوں گے لوگوں سے چھپے ہوئے مگر لوگ یعنی مکہ والے ان کے دروازے پر پہنچ کر انہیں تقاضا کرکے باہر لائیں گے اور ان کے ہاتھ شریف یہ جبرًا بیعت کریں گے اور انہیں اپنا خلیفہ مان لیں گے۔۴؎غالبًا یہ بیعت کعبہ معظمہ کے حطیم شریف میں واقع ہوگی کہ حطیم شریف سنگ اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان آجاتی ہے۔(مرقات)۵؎یعنی اس شام کا بادشاہ کوئی کافر ہوگا،جب اسے ان کی خلافت کا پتہ لگے گا تو وہ ان سے جنگ کرنے کے لیے ایک بڑا لشکر بھیجے گا،اس لشکر کا نام لشکر سفیانی ہوگاکہ یہ لوگ خالد ابن یزید ابن ابی سفیان کے اولاد سے ہوں گے یہ شخص یعنی خالد دراز سر چیچک رو سفید آنکھ والا تھا،یہ لشکر ایک چٹیل میدان میں زمین میں غرق ہوجاوے گا۔یہ میدان حرمین طیبین کے درمیان ہے،یہ وہ میدان نہیں جو ذوالحلیفہ کے سامنے مدینہ منورہ میں ہے ۔(مرقات)اس لشکر میں صرف ایک شخص بچے گا جو ان کی ہلاکت کی خبر لوگوں تک پہنچائے گا۔۶؎یعنی حضرت امام مہدی کی یہ کرامت جب لوگوں میں مشہور ہوگی تو شام کے ابدال اور عراق کی جماعتیں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے بیعت کریں گی۔ابدال اولیاء الله کی ایک جماعت ہے جن کی تعداد ستر۷۰ ہے چالیس شام میں اور تیس دوسرے مقامات میں رہتے ہیں،جب ان میں سے کوئی وفات پاتا ہے تو عام مسلمانوں میں سے کسی کو اس کی جگہ مقرر کردیا جاتا ہے اس لیے انہیں ابدال کہتے ہیں۔حضرت معاذ ابن جبل فرماتے ہیں کہ جس میں رضا بالقضاء ،بری باتوں سے زبان روکنا،الله کے لیے غصہ کرنا پایا جاوے وہان شاءاللهابدال میں داخل ہوگا،امام غزالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں کہ جو شخص روزانہ تین بار یہ دعا پڑھ لیا کرے توان شاءاللهابدال میں سے ہوگا۔اللھم اغفر لامۃ محمد،اللھم ارحم امۃ محمد،اللھم تجاوز عن امۃ محمد۔عراق سے بھی اولیاء اﷲکی جماعت آکر امام مہدی سے بیعت کرے گی۔(اشعہ)۷؎یعنی یہ خبیث انسان اپنے ماموں نبی کلب کی مدد لے کر جناب امام مہدی کے مقابلہ میں لشکر بھیجے گا تو امام مہدی کے لشکر والے اس لشکر پر فتح پائیں گے۔یہ لوگ شکست فاش پائیں گے۔۸؎یعنی امام مہدی لوگوں میں سنت رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو پھیلائیں گے،ان سے سنت پر عمل کرائیں گے دنیا میں بڑی برکات ہوں گی۔۹؎جرانجیم کے کسرہ ر کے فتحہ سے اونٹ کی گردن،جب اونٹ اطمینان سے زمین پر بیٹھتا ہے تو اپنی گردن بچھا دیتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ان کے زمانہ میں جنگ جدال وغیرہ بند ہو جاویں گے،لوگوں کو امن نصیب ہوگا،اسلام کی بہت اشاعت ہوگی،استقامت اسلام کو سمجھانے کے لیے یہ فرمایا گیا۔۱۰؎یعنی امام مہدی خلیفہ بننے کے بعد سات سال خلافت کریں گے پھر آپ کی وفات ہوگی یہ پتہ نہیں چلا کہ وفات کہاں ہوگی۔شیعہ کہتے ہیں کہ حسن عسکری کے بیٹے محمد امام مہدی ہیں جو پیدا ہوچکے ہیں اور غائب ہوگئے ہیں قریب قیامت ظاہر ہوں گے،یہ عقیدہ محض باطل ہے۔خیال رہے کہ صوفیاء کی اصطلاح میں اولیاء اﷲکے طبقات و تعداد مختلف ہیں۔چنانچہ ہمیشہ دنیا میں ایک قطب ہوگا اور چار اوتاد،چالیس یا ستر ابدال،تین سو یا پانچ سو نقیب،بعض کے نزدیک پانچ امناء یانجباء بھی ہیں،ان کے کام و نام کتب صوفیاء میں ملاحظہ کرو۔زمانہ تابعین میں اویس قرنی قطب الوقت تھے،پھر حضور شیخ عبدالقادر جیلانی بالاتفاق قطب ہیں۔(مرقات)ان حضرات کی تعداد میں اختلاف ہے۔اس کی بحث آخر کتاب میں آوے گیان شاءاﷲ تعالیٰ،غوث اعظم قطب عالم غالبًا ایک ہی ولی کا نام ہے،الله تعالٰی کے فیوض باطنی قطب عالم پر نازل ہوتے ہیں پھر قطب عالم کی طرف سے عالم میں بقدر ظرف تقسیم ہوتے ہیں،چاروں سمتوں میں رہتے ہیں مشرق،مغرب،جنوب،شمال،یہ حضرات قطب سے فیض لے کر اپنے علاقے میں تقسیم کرتے ہیں۔(مرقات)خیال رہے کہ یہ فیوض باطنی کا حال ہے مسائل فقیہہ صوفیاء کے کشف سے ثابت نہیں ہوتے اگرچہ وہ حضرات حضور صلی الله علیہ و سلم سے ہی نقل فرمادیں کیونکہ شریعت کے دلائل کتاب و سنت ہیں نہ کہ صرف کشف ۔(مرقات)ہاں کشف سے فقہی مسئلہ کی تائید ہوسکتی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5456