Main Icon

باب:جزیہ کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4035

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ مَجالَةَ قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الأَحْنَفِ فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ- قَبْلَ مَوْتِهٖ بِسَنَةٍ: أَنْ فَرِّقُوْا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوْسِ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوْسِ حتّٰى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ-صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوْسِ هَجَرَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ. وَذُكِرَ حَدِيثُ بُرَيْدَةَ: إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلٰى جَيْشٍ فِي "بَابِ الْكِتَابِ إِلَى الْكُفَّارِ".

عن مجالة قال: كنت كاتبا لجزء بن معاوية عم الأحنف فأتانا كتاب عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- قبل موته بسنة: أن فرقوا بين كل ذي محرم من المجوس، ولم يكن عمر أخذ الجزية من المجوس حتى شهد عبد الرحمن بن عوف أن رسول الله-صلى الله عليه وسلم أخذها من مجوس هجر. رواه البخاري. وذكر حديث بريدة: إذا أمر أميرا على جيش في "باب الكتاب إلى الكفار".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت مجالہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں احنف کے چچا جزءابن معاویہ کا کاتب تھا ۲؎ہمارے پاس حضرت عمر ابن خطاب کا تحریری فرمان آیا ان کی وفات سے ایک سال پہلے کہ مجوسی کے ہر رحمی قرابت دار کے درمیان جدائی کردو۳؎اور حضرت عمر نے مجوس سے جزیہ نہ لیا تھا یہاں تک کہ عبدالرحمان ابن عوف نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجر کے مجوس سے جزیہ وصول فرمایا تھا۴؎(بخاری)اور بریدہ کی حدیثاذا امر امیرالخکتاب الکفارکے باب میں بیان کر دی گئی۵؎

شرح حدیث

۱∞؎مجالہ میم کے فتح جیم کے فتح سے،تابعی ہیں،آپ کا نام مجالہ ابن عبدتمیمی مکی ہے،ثقہ ہیں،حضرت عمران ابن حصین صحابی سے ملاقات ہے۔
۲
؎جزء ابن معاویہ جیم کے فتحہ ز کے سکون سے،یہ تابعی ہیں،تمیمی ہیں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے مقام اہواز کے حاکم تھے اور احنف ابن قیس تابعی ہیں،انہوں نے حضور کا زمانہ پایا مگر ملاقات نہیں کی،بڑے عالم متقی حضرت عمرو عثمان علی و عباس سے ملاقات کی، ۶۲ھ؁ ∞ باسٹھ ہجری میں کوفہ میں وفات پائی،جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے،آپ نے حضرت علی کی بڑی امداد کی رضی اللہ عنہم،حضرت علی کی وفات کے بعد امیر معاویہ نے ان کا بڑا احترام کیا۔(مرقات،اشعہ)
۳
؎مجوس اپنی بہن بیٹی وغیرہ سے نکاح کرلیتے تھے،حضرت عمر نے حکم دیا کہ انہیں ایسا نہ کرنے دو اور جس مجوسی کے نکاح میں اس کی بہن بیٹی ہو انہیں علیٰحدہ کردیا جائے کہ یہ اگرچہ ان کے دین میں جائز ہے اور ذمی کفار کو مذہبی آزادی ہے مگر یہ حرکت انسانیت کے خلاف ہے اس لیے انہیں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
۴
؎ہجر یمن کا ایک شہر بھی ہے اور مدینہ منورہ کے قریب ایک بستی بھی اور بحرین کا ایک گاؤں بھی جہاں کے گھڑے مٹکے مشہور ہیں وہ مدینہ پاک کے پاس والا ہجر ہے اور یہاں بحرین والا ہجر مراد ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ عرب کے اہل کتاب سے جزیہ لیا جاسکتا ہے اور مجوس اہل کتاب نہیں لہذا ان سے جزیہ نہ لیا جائے مگر جب آپ کو یہ حدیث پہنچی تب آپ نے ان سے جزیہ قبول فرمایا۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ مجوسی بھی اہل کتاب ہیں ان کی کتاب ان سے اٹھالی گئی۔(مرقات)
۵
؎یعنی لمعات میں وہ حدیث اس جگہ تھی ہم نے مناسبت کے لحاظ سے اس باب میں نقل کردی اور یہاں بیان کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4035