Main Icon

باب:جزیہ کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4039

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ عَنْ جَدِّهٖ أَبِيْ أُمِّهٖ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّمَا الْعُشُوْرُ عَلَى الْيَهُوْدِ وَالنَّصَارٰى، وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُوْرٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن حرب بن عبيد الله عن جده أبي أمه عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إنما العشور على اليهود والنصارى، وليس على المسلمين عشور". رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حرب ابن عبید اللہ سے وہ نانا سے راوی وہ اپنے والد سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عشر صرف یہودیوں اور عیسائیوں پر ہی ہے اور مسلمانوں پرعشر نہیں ۲؎(احمد، ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حرب ابن عبیدثقفی ہیں،تابعی ہیں،ان کے نانا اور نانا کے والد کے نام میں بہت اختلاف ہے۔
۲
؎یہاں عشر سے مراد پیداوار کا عشر (دسواں حصہ)نہیں کہ وہ تو مسلمان پر واجب ہے بلکہ اس سے مراد تجارتی مال کا ٹیکس (چونگی)کا محصول ہے،اگر کفار ہمارے مسلمان تاجروں سے چونگی محصول دسواں حصہ لیتے ہوں گے تو ہم بھی ان سے یہ محصول اتنا ہی لیں گے اور اگر وہ ہم سے کم و بیش لیتے ہوں گے تو ہم بھی ان کے تاجروں سے اتنا ہی لیں گے،اگر وہ ہم سے کچھ نہ لیتے ہوں گے تو ہم بھی ان سے کچھ نہ لیں گے،یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔(اشعہ،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4039