Main Icon

باب:جزیہ کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4040

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّا نَمَرُّ بِقَوْمٍ فَلَا هُمْ يُضَيِّفُوْنَا، وَلَا هُمْ يُؤَدُّوْنَ مَا لَنَا عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ، وَلَا نَحْنُ نَأْخُذُ مِنْهُمْ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنْ أَبَوْا إِلَّا أَنْ تَأْخُذُوْا كُرْهًا فَخُذُوْا" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن عقبة بن عامر قال: قلت: يا رسول الله! إنا نمر بقوم فلا هم يضيفونا، ولا هم يؤدون ما لنا عليهم من الحق، ولا نحن نأخذ منهم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن أبوا إلا أن تأخذوا كرها فخذوا" رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم کسی قوم پر گزرتے ہیں تو وہ نہ تو ہماری مہمانی کرتے ہیں اور نہ ہم کو وہ حق دیتے ہیں جو ہمارا ان پر ہے اور نہ ہم ان سے لیتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر وہ کسی طرح نہ مانیں بجز اس کے کہ تم ان سے جبرًا وصول کرو تو لے لو ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس سوال و جواب میں ان ذمی کفار کی طرف اشارہ ہے جن سے صلح میں یہ شرط لگائی جاتی تھی کہ اگر تمہاری بستیوں پر ہماری غازی فوج گزرے تو تم ان کو راشن یا دعوت دینا اس شرط پر کہ ان پر اسلامی فوج کی یہ دعوت لازم تھی،اگر وہ یہ شرط پوری نہ کریں تو فوج کو اجازت تھی کہ ان سے جبرًا اپنا یہ حق وصول کرلے،اگر یہ شرط نہ ہو تو ذمی سے جبرًا دعوت لینا ہرگز جائز نہیں مگر اضطرار شرعی کی صورت میں جب کہ بھوک سے جان پر بن جائے اور بجز اس کے اور کوئی صورت نہ ہوتو جائزہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4040