Main Icon

باب:صلح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4042

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ اِبْنِ الْحَكَمِ قَالَا: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِئَةً مِنْ أَصْحَابِهٖ،فَلَمَّا أَتٰى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ، وَأَشْعَرَ، وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَسَارَ حتّٰى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِيْ يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا، بَرَكَتْ بِهٖ رَاحِلَتُهٗ، فَقَالَ النَّاسُ: حَلْ حَلْ خَلأَتِ القَصْوَاءُ! خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ،وَلٰكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيْلِ" ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَا يَسأَلُوْنِيْ خُطَّةً يُعَظِّمُوْنَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللّٰهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا"، ثُمَّ زَجَرَهَا، فَوَثَبَتْ، فَعَدَلَ عَنْهُمْ، حتّٰى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيبِيةِ عَلٰى ثَمَدٍ قَلِيْلِ الْمَاءِ يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا، فَلَمْ يَلْبَثْهُ النَّاسُ حتّٰى نَزَحُوْهُ،وَشُكِيَ إِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ، فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهٖ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوْهُ فِيْهِ، فَوَاللّٰهِ مَا زَالَ يَجِيْشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حتّٰى صَدَرُوْا عَنْهُ، فَبَيْنَا هُمْ كَذٰلِكَ إِذْ جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نفَرٍ منْ خُزَاعَةَ، ثُمَّ أَتَاهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلٰى أَنْ قَالَ:إِذْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اُكْتُبْ: هٰذَا مَا قَاضٰى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ" فَقَالَ سُهَيْلٌ: وَاللّٰهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلٰكِنِ اكْتُبْ: مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللّٰهِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَاللّٰهِ إِنِّيْ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ وَإِنْ كَذَّبْتُمُوْنِي، اُكْتُبْ: مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللّٰهِ" فَقَالَ سُهَيْلٌ: وَعَلٰى أَنْ لَا يَأْتِيَكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلٰى دِيْنِكَ إِلَّا رَدَدْتَهٗ عَلَيْنَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهٖ: "قُوْمُوْا فَانْحَرُوْا ثُمَّ احْلِقُوْا"، ثُمَّ جَاءَ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ الآيَةَ فَنَهَاهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰى أَنْ يَرُدُّوْهُنَّ،وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرُدُّوْا الصَّدَاقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَجَاءَهٗ أَبُوْ بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوْ مُسْلِمٌ، فَأَرْسَلُوْا فِيْ طَلَبِهٖ رَجُلَيْنِ، فَدَفَعَهٗ إِلَى الرَّجُلَيْنِ فَخَرَجَا بِهٖ، حتّٰى إِذَا بَلَغَا ذَا الْحُلَيْفَةِ نَزَلُوْا يَأْكُلُوْنَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ، فَقَالَ أَبُوْ بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَينِ: وَاللّٰهِ إِنِّيْ لَأُرٰى سَيْفَكَ هٰذَا يَا فُلَانُ جَيِّدًا، أَرِنِيْ أَنْظُرْ إِلَيْهِ، فَأَمْكَنَهٗ مِنْهُ، فَضَرَبَهٗ حَتّٰى بَرَدَ، وَفَرَّ الآخَرُ حتّٰى أَتَى الْمَدِينَةَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُوْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ رَأٰى هٰذَا ذُعْرًا" فَقَالَ:قُتِلَ واللّٰهِ صَاحِبِيْ وَإِنِّي لَمَقْتُوْلٌ، فَجَاءَ أَبُوْ بَصِيْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَيْلُ أُمِّهٖ مِسْعَرَ حَوْبٍ لَوْ كَانَ لَهٗ أَحَدٌ"، فَلَمَّا سَمِعَ ذٰلِكَ عَرَفَ أَنَّهٗ سَيَرُدُّهٗ إِلَيْهِمْ، فَخَرَجَ حتّٰى أَتَى سِيفَ الْبَحْرِ قَالَ:وَانْفَلَتَ أَبُوْ جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلٍ، فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ، فَوَاللّٰهِ مَا يَسْمَعُوْنَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّامِ إِلَّا اعْتَرَضُوْا لَهَا، فَقَتَلُوْهُمْ وَأَخَذُوْا أَمْوَالَهُمْ، فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ اللّٰهَ وَالرَّحِمَ لَمَّا أَرْسَلَ إِلَيهِم فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِم. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن المسور بن مخرمة ومروان ابن الحكم قالا: خرج النبي صلى الله عليه وسلم عام الحديبية في بضع عشرة مئة من أصحابه،فلما أتى ذا الحليفة قلد الهدي، وأشعر، وأحرم منها بعمرة، وسار حتى إذا كان بالثنية التي يهبط عليهم منها، بركت به راحلته، فقال الناس: حل حل خلأت القصواء! خلأت القصواء! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ما خلأت القصواء وما ذاك لها بخلق،ولكن حبسها حابس الفيل" ثم قال: "والذي نفسي بيده لا يسألوني خطة يعظمون فيها حرمات الله إلا أعطيتهم إياها"، ثم زجرها، فوثبت، فعدل عنهم، حتى نزل بأقصى الحديبية على ثمد قليل الماء يتبرضه الناس تبرضا، فلم يلبثه الناس حتى نزحوه،وشكي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العطش، فانتزع سهما من كنانته، ثم أمرهم أن يجعلوه فيه، فوالله ما زال يجيش لهم بالري حتى صدروا عنه، فبينا هم كذلك إذ جاء بديل بن ورقاء الخزاعي في نفر من خزاعة، ثم أتاه عروة بن مسعود، وساق الحديث إلى أن قال:إذ جاء سهيل بن عمرو، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "اكتب: هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله" فقال سهيل: والله لو كنا نعلم أنك رسول الله ما صددناك عن البيت ولا قاتلناك، ولكن اكتب: محمد بن عبد الله، قال: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "والله إني لرسول الله وإن كذبتموني، اكتب: محمد بن عبد الله" فقال سهيل: وعلى أن لا يأتيك منا رجل وإن كان على دينك إلا رددته علينا، فلما فرغ من قضية الكتاب، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه: "قوموا فانحروا ثم احلقوا"، ثم جاء نسوة مؤمنات فأنزل الله تعالى: ياأيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات الآية فنهاهم الله تعالى أن يردوهن،وأمرهم أن يردوا الصداق ثم رجع إلى المدينة، فجاءه أبو بصير رجل من قريش وهو مسلم، فأرسلوا في طلبه رجلين، فدفعه إلى الرجلين فخرجا به، حتى إذا بلغا ذا الحليفة نزلوا يأكلون من تمر لهم، فقال أبو بصير لأحد الرجلين: والله إني لأرى سيفك هذا يا فلان جيدا، أرني أنظر إليه، فأمكنه منه، فضربه حتى برد، وفر الآخر حتى أتى المدينة، فدخل المسجد يعدو، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لقد رأى هذا ذعرا" فقال:قتل والله صاحبي وإني لمقتول، فجاء أبو بصير، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ويل أمه مسعر حوب لو كان له أحد"، فلما سمع ذلك عرف أنه سيرده إليهم، فخرج حتى أتى سيف البحر قال:وانفلت أبو جندل بن سهيل، فلحق بأبي بصير، فجعل لا يخرج من قريش رجل قد أسلم إلا لحق بأبي بصير، حتى اجتمعت منهم عصابة، فوالله ما يسمعون بعير خرجت لقريش إلى الشام إلا اعترضوا لها، فقتلوهم وأخذوا أموالهم، فأرسلت قريش إلى النبي صلى الله عليه وسلم تناشده الله والرحم لما أرسل إليهم فمن أتاه فهو آمن، فأرسل النبي صلى الله عليه وسلم إليهم. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے مسور ابن مخرمہ سے اور مروان ابن حکم سے ۱؎دونوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم حدیبیہ کے سال چند اور دس سو صحابہ کی جماعت میں تشریف لے گئے۲؎تو جب ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو ہار پہنایا اور اشعار کہا۳؎اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا اور چلے حتی کہ جب اس پہاڑی پر پہنچے جہاں سے مکہ والوں پر اتراجاتا ہے۴؎تو آپ کو لےکر آپ کی سواری بیٹھ گئی تو لوگ بولے اٹھ اٹھ قصواء اڑیل ہوگئی قصواء اڑیل ہوگئی ۵؎تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قصواء اڑیل نہیں ہوگئی نہ اس کی یہ عادت ہے لیکن اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ۶؎پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ وہ مجھ سے کوئی مطالبہ ایسا نہ کریں گے جس میں اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کریں گے مگر میں انہیں دے دوں گا ۷؎پھر اسے ڈانٹا تو وہ کود کر اٹھی پھر حضور نے ان سے عدول فرمایا ۸؎حتی کہ حدیبیہ کے کنارہ اترے تھوڑے پانی والی جگہ پر کہ وہاں سے لوگ تھوڑا تھوڑا پانی لیتے تھے ۹؎تو نہ چھوڑا اسے لوگوں نے حتی کہ اسے خشک کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیاس کی شکایت کی ۱۰؎تو حضور نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا پھر انہیں حکم دیا کہ یہ اس کنوئیں میں ڈال دیں ۱۱؎توکی قسم وہ کنواں پانی سے جوش مارتا رہا حتی کہ وہ لوگ وہاں سے لوٹ گئے ۱۲؎وہ اس حال میں تھے کہ بدیل ابن ورقاء خزاعی خزاعہ کی ایک جماعت حضور کے پاس آئی۱۳؎پھر آپ کے پاس عروہ ابن مسعود آیا ۱۴؎حدیث پوری بیان کی یہاں تک کہا کہ جب سہیل ابن عمرو آیا ۱۵؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ لکھو یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد نے فیصلہ فرمایا ۱۶؎تو سہیل بولا خدا کی قسم اگر ہم آپ کوکا رسول جانتے تو آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے نہ آپ سے جنگ کرتے لیکن آپ یوں لکھیں محمد ابن عبد۱۷؎راوی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا واللہ میں رسول اللہ ہوں اور اگر تم جھٹلاتے ہی ہو تو لکھ لو محمد ابن عبداللہ ۱۸؎پھر سہیل بولا کہ اس شرط پر صلح ہے کہ ہم میں سے کوئی آدمی آپ کے پاس نہ آوے اگرچہ آپ کے دین پر ہو مگر آپ اسے ہماری طرف لوٹا دیں ۱۹؎جب لکھت پڑھت کے جھگڑے سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنے اصحاب سے قربانیاں کرو پھر سر منڈواؤ۲۰؎پھر کچھ عورتیں مؤمنہ آئیں تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری،اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مؤمن عورتیں ہجرت کرکے آئیں الخ،چنانچہ انہیں اللہ تعالٰی نے ان عورتوں کے واپس کرنے سے منع فرمادیا ۲۱؎اور یہ حکم دیا کہ ان کے مہر واپس کردیں۲۲؎پھر حضور مدینہ واپس ہوئے تو آپ کی خدمت میں ایک قرشی شخص ابو بصیر مسلمان ہوکر آئے۲۳؎مکہ والوں نے ان کے طلب کے لیے دو شخص بھیجے حضور نے انہیں ان دوشخصوں کے حوالہ کردیا وہ انہیں لےکر نکلے حتی کہ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو اپنی کھجوریں کھانے کے لیے اترے۲۴؎تو ابو بصیر نے ان میں سے ایک سے کہا اے فلاں خدا کی قسم میں تیری اس تلوار کو بہت ہی اچھی دیکھ رہا ہوں مجھے دکھا تو میں اسے دیکھوں اس نے انہیں تلوار پر قابو دے دیا انہوں نے اسے مار دیا حتی کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا اور دوسرا بھاگ گیا ۲۵؎حتی کہ مدینہ پہنچا دوڑتا ہوا مسجد میں آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس نے کوئی سخت ڈر دیکھا ہے ۲۶؎وہ بولا واللہ میرا ساتھی تو قتل کردیا گیا اور میں بھی قتل ہوجاؤں گا۲۷؎اتنے میں ابوبصیر آگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی ماں کی خرابی ہے ۲۸؎اگر اس کا کوئی مددگار ہو تو یہ جنگ بھڑکاوے۲۹؎انہوں نے جب یہ سنا تو پہچان گئے کہ حضور انہیں مکہ والوں کے حوالہ کردیں گے ۳۰؎تو یہ نکل کھڑے ہوئے حتی کہ سمندر کنارہ آگئے ۳۱؎فرماتے ہیں کہ ادھر ابوجندل ابن سہیل چھوٹ گئے تو ابوبصیر سے مل گئے۳۲؎پھر قریش کا کوئی آدمی جو مسلمان ہوجاتا وہ نہ نکلتا مگر ابوبصیر سے مل جاتا ۳۳؎تاآنکہ ان کی ایک جماعت جمع ہوگئی پھر تو خدا کی قسم یہ لوگ نہ سنتے قریش کے کسی قافلہ کو جو شام کی طرف نکلتا مگر یہ اس کے آڑےہوتے انہیں قتل کردیتے اور ان کے مال لے لیتے ۳۴؎تب قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف پیغام بھیجا جس میں وہ حضور کوتعالٰی کی قسم قرابت داری کا واسطہ دینے لگے کہ حضور انہیں بلا بھیجیں اب جو آپ کے پاس آئے اسے امان ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بلا بھیجا ۳۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مروان ابن حکم قرشی اموی ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں پیدا ہوا مگر حضور کی زیارت نہ کرسکا لہذا صحابی نہیں کیونکہ حضور انور نے اس کے باپ حکم کو مدینہ منورہ سے شہر بدر فرماکر طائف بھیج دیا۔ مروان اس کے ساتھ گیا اس کے کچھ حالاتباب الاسراءکی پہلی فصل میں گزر چکے۔
۲
؎حضور صلی اللہ علیہ و سلم ذی قعدہ ۶ھ؁ ∞ دو شنبہ کے دن بقصد عمرہ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور حدیبیہ میں فروکش ہوئے۔ حدیبیہ ایک کنوئیں کا نام ہے اسی نام سے وہ میدان مشہور ہوگیا جس میں یہ کنواں ہے۔ یہ جگہ جدہ مکہ معظمہ کے درمیان ہے مکہ معظمہ سے قریب ہے اس کا بعض حصہ حرم میں داخل ہے بعض حصہ حل میں ، مکہ معظمہ سے قریبًا بارہ میل عربی پر واقعہ ہے یا نو میل۔اس سال کا نام سال حدیبیہ ہے کیونکہ اس سال میں صلح حدیبیہ کا واقعہ ہوا۔ عربی میں لفظبضعتین سے نو تک کی اکائیوں کو کہتے ہیں۔اس میں شرکت کرنے والے صحابہ چودہ یا پندرہ سو تھے۔حضور چودہ سو کی جماعت لے کر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے راستہ میں اور لوگ ملتے رہے۔حدیبیہ پہنچتے پہنچتے پندرہ سو ہوگئے۔(اشعہ) اس موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عبدابن ام مکتوم نابینا کو اپنا نائب مقرر فرما گئے۔
۳
؎ذوالحلیفہ وہ ہی جگہ ہے جسے بیر علی کہا جاتا ہے،یہ مدینہ منورہ سے جانب مکہ معظمہ تین میل کے فاصلے پر ہے یہ مدینہ والوں کامیقات یعنی احرام کی جگہ ہے جیساکہ حج کے بیان میں گزرچکا۔تقلید کے معنی ہیں ہدی جانور کے گلے میں جوتے یا کسی اور چیز کو مضبوط رسی میں باندھ کر جانور کے گلے میں ہار کی طرح ڈال دینا۔ اشعار کے معنی ہیں اونٹ کے کوہان کے داہنے یا بائیں حصے میں نیزہ مارکر کوہان کو لیپ دینا،یہ دونوں عمل بطور نشانی ہدی میں کیے جاتے ہیں اس کی بحث باب حج میں گزرگئی۔
۴
؎ثنیہاس پہاڑی کو کہتے ہیں جس میں راستہ ہو جہاں سے گزر کر دوسری جانب پہنچا جائے یعنی آپ قریب مکہ معظمہ پہنچے کہ اس پہاڑی کو عبور فرماکر مکہ معظمہ داخل ہوجاتے۔
۵
؎قصواءکے معنی ہیں کان کٹی ہوئی اونٹنی حضور کی اونٹنی کان کٹی ہوئی نہ تھی یہ اس کا نام تھا۔مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام سمجھے کہ آج قصواء میں اڑ جانے کا عیب پیدا ہوگیا۔
۶
؎یعنی قصواء نہ تو پہلے اڑیل تھی نہ آج ہے۔اسے رب تعالٰی نے روک لیا جیسے کہ ہاتھی والوں کو روک لیا تھا۔مقصد یہ ہے کہ حرم شریف میں بے وقت جنگ اور کشت و خون نہ ہو۔خیال رہے کہ جب ابرہہ بادشاہ نے ہاتھیوں کا لشکر لے کر مکہ معظمہ پر چڑھائی کی تو جب ذوالمجاذ پہنچا تو اس کا ہاتھی مکہ معظمہ کیطرف نہ چل سکا جب اسے اور طرف چلاتے چل پڑتا ادھر چلاتے نہ چلتا۔اس فرمان عالی کا اسی طرف اشارہ ہےذوالمجاذ عرفات سے ایک میل دور بازار تھا۔
۷
؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سب صحابہ کرام کو گواہ بنا کر یہ فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ مقصد جنگ نہیں حتی الامکان ہم جنگ سے گریز کریں گے اور کفار مکہ کی ہر وہ شرط مان لیں گے جس میں حرم الٰہی کی اہانت نہ ہو یہ فرمان عالی آئندہ صلح کی تمہید تھا ۔
۸
؎یعنی اس راستہ پر تشریف نہ لے گئے جدھر سے عام لوگ مکہ معظمہ جاتے ہیں اور جدھر کفار مکہ کا اجتماع تھا بلکہ دوسرا راستہ اختیار فرمایا۔خیال رہے کہ حضور انور کو غدیر اشطاط پر خبر مل گئی تھی کہ قریش ہمارے روکنے کے لیے اسی طرف جمع ہیں۔
۹
؎ثمدث اور میم کے فتحہ سے بمعنی تھوڑا پانی۔یہاں وہ جگہ مراد ہے جہاں تھوڑا پانی ہو کیونکہ آگے تھوڑے پانی کا ذکر آرہا ہے۔ (مرقات و اشعہ)
۱۰
؎یعنی عرض کیا یارسول اللہ پیاس ہے پانی کی ضرورت ہے اور کنواں خشک ہوگیا۔معلوم ہوا کہ اللہ کی نعمتیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے مانگ سکتے ہیں،جب حضرت ربیعہ نے حضور سے جنت مانگی اور پالی تو اور چیزوں کی کیا حقیقت ہے،حضور خزائن اللہ کے مالک ہیں۔
۱۱
؎سبحان اﷲ!اس تیر کو کنوئیں میں ڈلوانے سے اشارۃً سمجھایا کہ جس چیز کو ہمارا ہاتھ لگ جائے اس کے ذریعہ بھی نعمت الہیہ مل جاتی ہیں یہ پانی میں برکت دے دینا تیرکا کمال نہ تھا کمال اس ہاتھ پاک کا تھا جس سے تیر مس ہوا۔(مرقات)اولیاءاللہ حضور کی نگاہ کرم سے قدرت کا تیر ہیں،ان کی نگاہ کرم سے تقدیریں پلٹ جاتی ہیں،میاں محمد قدس سرہ فرماتے ہیں۔شعر
ہر مشکل دی کنجی یار ہتھ مرداں دے آئی مرد نگاہ کرن جس ویلے مشکل رہے نہ کائی
دردمنداں دے درد نہ چھوڑن اوگن دے گن کردےکامل لوگ محمدبخشالعل بنان پتھردے
۱۲
؎اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ کنواں بعد میں خشک ہوگیا۔مطلب یہ ہے کہ حضرات صحابہ کرام اسے جوش مارتا چھوڑ آئے۔
۱۳
؎خزاعہ ازد کے ایک محلہ کا نام ہے،یہاں کے لوگ خزاعی کہلاتے ہیں،یہ لوگ اپنا یہ مقام چھوڑ کر مکہ مکرمہ میں مقیم ہوگئے تھے،یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بہت خیر خواہ تھے،یہ بدیل مع اپنے بیٹے عبدکے فتح مکہ کے دن مسلمان ہوگئے۔(اشعہ)
۱۴
؎یہ صاحب ثقفی ہیں ۹ھ؁ ∞ میں غزوہ طائف کے بعد ایمان لائے۔(اشعہ)
۱۵
؎سہیل ابن عمرو سرداران قریش سے تھے،غزوہ بدر میں قیدی ہوکر مدینہ منورہ آئے،حضرت عمر نے عرض کی یارسول اللہ ان کے دانت توڑ ڈالیے کہ اب اس منہ سے آپ کی بدگوئی کرتے ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا نہیں اس کا انجام اچھا ہوگا۔چنانچہ یہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوگئے اورحضور کی وفات کے بعد جب بعض مکہ والے مرتد ہونے لگے تو آپ نے ان کو نہایت اچھے طریقے سے ارتداد سے روکا اورحضور کی خبرغیب و پیش گوئی اس طرح پوری ہوئی،آج جب سہیل آئے تو حضور نے فرمایاان شاءاﷲکام سہل و آسان ہوگیا،چنانچہ سہیل نے صلح نامہ لکھوایا۔
۱۶
؎یہ فرمان عالی حضرت علی سے ہے کیونکہ صلح نامہ آپ ہی نے لکھا تھا۔صالحباب مفاعلہ سے ہے جس کے معنی ہیں ایک دوسرے نے آپس میں صلح کی۔(مرقات)حضور انور نے فرمایا تھا اے علی لکھوبسم اﷲالرحمن الرحیمتو سہیل بولے اسبسم اﷲکو ہم نہیں جانتے آپ وہ ہیبسم اﷲلکھیں۔باسمك اللہمحضور نے فرمایا اچھا اے علی یوں ہی لکھو پھر یہ فرمایا جو یہاں مذکور ہے۔(مرقات)
۱۷
؎یعنی چونکہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے اس لیے اس صلح نامہ میں یہ نہ لکھنے دیں گے وہ لکھوائیں گے جس پر ہم اور آپ متفق ہیں یعنی محمد ابن عبدلکھئے(صلی اللہ علیہ وسلم)اکتبکا مطلب یہ ہے کہ آپ جناب علی کو یہ لکھنے کا حکم دیجئے کیونکہ وکیل کا کام خود مؤکل کا کام ہوتا ہے۔
۱۸
؎چنانچہ حضور انور نے حضرت علی کو حکم دیا کہ لفظ رسول اللہ کو مٹاکر ابن عبداللہ لکھ دو،حضرت علی نے عرض کیا قسم خدا کی میں اس لفظ کو نہ مٹاؤں گا۔چنانچہ حضور انور نے صلح نامہ خود اپنے دستِ اقدس میں لے کر وہ لفظ مٹاکر اپنے دستِ اقدس سے لکھا ابن عبد۔(مرقات،بخاری وغیرہ)یہاں تین چیزیں یاد رکھو: ایک یہ کہ حضور انور کا خود لکھنا معجزہ ہے کیونکہ حضور انور نے لکھنا نہ تو سیکھا تھا نہ کبھی لکھا تھا۔قرآن کریم فرماتا ہے:"وَ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیۡنِکَ"قرآن کریم نے لکھنے کی عادت کا انکار فرمایا اور یہاں لکھنا بطور معجزہ کا ثبوت ہے۔اس کی مکمل بحث یہاں مرقات میں دیکھو۔دوسرے یہ کہ حضرت علی کے بازوؤں میں یہ طاقت ہے کہ خیبر کا دروازہ اکھیڑ لیں مگر بازو حیدری میں حضور انور کے نام کو کاٹنے کی طاقت نہیں،کیوں ہو وہ نام بلند کرنے والے ہیں نہ کہ کاٹنے والے۔تیسرے یہ کہ حضرت علی نےبسم اﷲالرحمن الرحیمکی تبدیلی پرکوئی معذرت نہ کی حضور کے لقب شریف کی تبدیلی پر معذرت کردی پتہ لگا کہ شعر
ادب گاہےاست زیرآسماں ازعرش نازک تر نفس گم کردہ می آید جنید وبایزید اینجا
باخدا دیوانہ وبامصطفی ہوشیار باش۔عقیدۂ نبوت عقیدۂ الوہیت سے زیادہ نازک تر ہے،جناب علی کے اس ادب پر ہمارے جان و مال قربان رضی اللہ عنہ۔
۱۹
؎یعنی صلح نامہ میں بہت سی شرائط لکھی گئیں منجملہ ان کے ایک شرط تو یہ تھی کہ جو مکہ والا مسلمان ہوکر مدینہ منورہ آئے اسے آپ مدینہ منورہ میں نہ رکھیں ہم کو واپس کردیں اور چند شرائط اس کے علاوہ تھیں جو اپنے موقعہ پر ذکر کی جائیں گی۔
۲۰
؎اور فریقین کے دستخط صلح نامہ پر ہوگئے۔اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے موقعہ پرخصوصًا جب کہ حرم شریف کا احترام اور مسلمانوں کے خون کا مسئلہ درپیش ہو۔ہر وہ جائز شرط قبول کرلینا جائز ہے جس میں شرعًا کوئی حرج نہ ہو اور بڑا فساد رک جاتا ہو کیونکہ شریعت میں یہ دونوں تحریریںباسمك اللہماور محمد ابن عبداللہ لکھنا حرام نہیں اور اس تحریر میں مصلحت تھی۔
۲۱
؎اسے شریعت میں کہتے ہیں دم احصار کہ جو کوئی حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے پھر حج و عمرہ نہ کرسکے تو وہ وہاں ہی احرام کھول دے اور جانور ذبح کرے۔اس دم احصار کے لیے امام اعظم کے نزدیک حرم میں ذبح ہونا شرط ہے،امام شافعی کے ہاں حل میں بھی ذبح ہوسکتا ہے۔حدیبیہ کا ایک حصہ حرم میں داخل ہے یہ ذبح اسی حصہ میں ہوا۔چونکہ اس صلح نامہ میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ آپ اس وقت بغیر عمرہ کیے واپس جائیں سال آئندہ اسی مہینہ ذی قعدہ میں تشریف لائیں عمرہ کریں اور مکہ معظمہ میں تین دن قیام فرمائیں اس لیے احصار(یعنی رکاوٹ)پالی گئی اور وہاں ہی احرام کھول دیا گیا،دم احصار کے متعلق مذہب حنفِیہ قوی ہے کہ اس کی تائید رب تعالٰی کے اس فرمان سے ہوتی ہے"وَلَا تَحْلِقُوۡا رُءُوۡسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ"اور دوسری جگہ فرماتاہے: "ھَدْیًۢا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ"یہاں کعبہ سے مراد مکہ ہے۔
۲۲
؎یعنی صلح حدیبیہ کے بعد مکہ معظمہ سے کچھ عورتیں مسلمان ہوکر مدینہ منورہ آئیں تو ان کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں ان عورتوں کو واپس لو ٹانے سے منع فرمادیا گیا۔خیال رہے کہ صلح نامہ جو حدیبیہ میں لکھا گیا اس کی تحریر یہ تھیلا یاتیك رجل الا رددتہہمارا جو رجل آپ کے پاس آئے اسے آپ واپس کردیں۔رجلمرد کو کہتے ہیں جس میں عورتیں داخل نہیں۔جن روایات میں بجائےرجلکےاحدہے وہاں روایت بالمعنی ہیں۔راوی نے بجائےرجلکےاحدکی روایت کردی۔بعض نے فرمایا کہ صلح مرد و عورت دونوں کے متعلق تھی مگر اس آیت سے وہ شرط عورتوں کے حق میں منسوخ ہوگئی مگر پہلا قول زیادہ قوی ہے۔
۳۳
؎یعنی جو شادی شدہ مشرکہ کافرہ عورتیں مسلمان ہوکر آئیں تو تم ان کے مہر ان کے خاوندوں کو پھیردو اور اگر کنواری لڑکیاں ہوں یا شادی شدہ عورتو ں نے مہر اپنے خاوندوں سے لیے نہ ہوں تو کسی چیز کی واپسی کی ضرورت نہیں۔اس لیے معلوم ہوا کہ اگر کافرہ عورت مسلمان ہوکر دارالاسلام میں آئے تو وہ اپنے کافر خاوند کے نکاح سے نکل جائے گی اور اب نکاح ثانی کے لیے عدت واجب نہ ہوگی۔صرف استبراء کے لیے ایک حیض دیکھا جائے گا۔بعض علماء نے فرمایا کہ مہر بھیجنے کا حکم منسوخ۔عطاء،قتادہ اور مجاہد کا یہ ہی فرمان ہے بعض کے نزدیک یہ حکم باقی ہے۔تفسیر مدارک نے منسوخ مانا،دیکھو تفسیر مدارک اور مرقات۔
۲۴
؎ان کا نام عتبہ ابن اسید ہے،ثقفی ہیں،صحابی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے حیات شریفہ میں ہی فوت ہوگئے۔
۲۵
؎ذوالحلیفہ مدینہ منورہ سے تین میل فاصلہ پر جانب مکہ معظمہ ایک منزل ہے جسے اب بیر علی کہا جاتا ہے،یہ اہل مدینہ کا میقات ہے اب وہاں بڑی آبادی ہے۔
۲۶
؎خیال رہے کہ یہ دونوں کافر حربی تھے اور ابوبصیر مسلمان اور کافر حربی کو ہر طرح حیلے بہانے سے قتل کردینا جائز ہے اسی لیے ابو بصیر پر قصاص یا اورکوئی کفارہ لازم نہ ہوا۔
۲۷
؎ذعرذال کے پیش ع کے جزم سے بمعنی خوف و ڈر اس کی تنوین تعظیم کی ہے تو معنی ہوئے سخت ڈر و خوف و ہراس۔(مرقات و اشعہ)
۲۸
؎کیونکہ ابوبصیر ننگی تلوار لیے ابھی میرے پیچھے آرہے ہیں مجھے چھوڑیں گے نہیں۔
۲۹
؎یہ کلمہ یعنیویل امہتعجب اور ناراضگی کے موقعہ پر بولا جاتا ہے یہاں تعجب کے لیے ہے اور تعجب ابوبصیر کی جرأت و تدبیر پر ہے جو انہوں نے اپنے چھٹکارے کے لیے کی ہے کہ حضور انور کا عہدبھی قائم رہا اور وہ چھوٹ بھی گئے۔
۳۰
؎اس جملہ کے بہت معانی کیے گئے ہیں ہم نے جو معنی کیے ہیں بہت واضح ہیں یعنیمسعر حربجزا مقدم ہے اورلو کانالخ شرط مؤخر اورلوکی جزا شرط سے پہلے آسکتی ہے۔بعض نےلوکی جزاء پوشیدہ مانی ہے اور اسے علیٰحدہ جملہ بنایا ہے۔مسعر سعارسے اسم آلہ ہے جوسعرت النارسے بنا ہے بمعنی آگ دھونکنے کا آلہ۔جنگ کو آگ سے تشبیہ دی گئی اور ابوبصیر کو دھو نکنی قرار دیا گیا اور ہوسکتا ہے کہ باب افعال کا اسم فاعل ہو یعنی اگر کوئی بھی اسے مددگار مل جائے تو یہ مکہ والوں سے کار زار کا بازارگرم کردے۔
۳۱
؎یعنی ابو بصیر اس فرمان عالی سے سمجھ گئے کہ اگر میں مدینہ منورہ میں ٹھہرا تو کفار مکہ پھر مجھے پکڑنے کے لیے آجائیں گے اور حضور انور مجھے ان کے حوالہ کردیں گے اور اب میں مکہ پہنچ کر قتل کردیا جاؤں گا کیونکہ میں نے ان کا ایک آدمی مار دیا ہے۔
۳۲
؎یہ وہ مقام تھا جہاں سے کفار مکہ کے تجارتی قافلے گزرا کرتے تھے۔
۳۳
؎یہ ابوجندل ابن سہیل ابن عمرو وہ ہی ہیں جو مکہ معظمہ میں ایمان لے آئے تھے،اس پر ان کے باپ نے انہیں قید کردیا تھا اور جب ان کے باپ سہیل ابن عمرو حضور سے صلح نامہ لکھوارہے تھے تو یہ مسلمانوں کے پاس پہنچ گئے تھے اور پھر مکہ معظمہ واپس کردیئے گئے تھے اور پھر وہاں قید کردیئے گئے تھے،انہوں نے اسلام کی خاطر بہت مصیبتیں برداشت کی تھیں۔اب یہ کسی صورت سے چھوٹے تو بجائے مدینہ منورہ آنے کے سیف البحر پر ابوبصیر کے پاس پہنچ گئے۔
۳۴
؎کیونکہ مکہ معظمہ میں مشہور ہوگیاتھا کہ مدینہ منورہ سے ہم واپس کردیئے جائیں گے مطابق صلح نامہ کے اس لیے بجائے مدینہ منورہ آنے کے وہاں جانے لگے۔
۳۵
؎کیونکہ یہ جگہ مکہ معظمہ اور شام کے درمیان واقع ہے،ا ہل مکہ کا گزارہ اسی شام کی تجارت پر تھا اس لیے یہ لوگ اس طرف سفر پر مجبور تھے۔
۳۶
؎یہ حضور کی پہلی فتح تھی جو آپ کو اللہ نے کفار پر عطا فرمائی کہ کفار مکہ نے خود ہی اپنی شرط توڑ دی اور حضور کی خوشامد کرکے اس شرط کے توڑنے کی درخواست کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4042