Main Icon

باب:صلح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4045

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فِي بَيْعَةِ النِّسَاءِ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِهٰذِهِ الآيَة: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ ، فَمَنْ أَقَرَّتْ بِهٰذَا الشَّرْطِ مِنْهُنَّ قَالَ لَهَا: "قَدْ بَايَعْتُكِ" كَلَامًا يُكَلِّمُهَا بِهٖ، وَاللّٰهِ مَا مَسَّتْ يَدُهٗ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة قالت في بيعة النساء: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمتحنهن بهذه الآية: ياأيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك ، فمن أقرت بهذا الشرط منهن قال لها: "قد بايعتك" كلاما يكلمها به، والله ما مست يده يد امرأة قط في المبايعة. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے آپ عورتوں کی بیعت کے متعلق فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کا اس آیت سے امتحان لیتے تھےاے نبی! جب آپ کے پاس مؤمنہ عورتیں بیعت کرنے آئیں،الخ تو ان میں سے جو بی بی اس شرط کا اقرار کرلیتی اس سے حضور فرماتے کہ میں نے تمہیں بیعت کرلیا اس کلام سے جو آپ اس سے کرتےکی قسم بیعت میں حضور کا ہاتھ مبارک کسی عورت سے نہ چھوا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم مردوں سے بیعت لیتے تو مصافحہ فرماکر بیعت لیتے مگر عورتوں سے کبھی مصافحہ نہ فرماتے صرف کلام سے بیعت فرماتے کیونکہ غیرعورت کو ہاتھ لگانا حرام ہے خواہ پیر ہو یا عالم یا شیخ یا کوئی اور۔حضرت ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط مؤمنہ مہاجرہ ہو کر مدینہ منورہ آئیں،کنواری تھیں،ان کے اہل نے انہیں بلایا حضور انور نے واپس فرمانے سے انکارکردیا اور اس طرح ان سے بیعت لی۔بہرحال مشائخ کو چاہیے کہ عورتوں سے اس طرح بیعت لیا کریں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4045