Main Icon

باب:صلح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4048

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ قَالَتْ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ لَنَا: "فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ" قُلْتُ: اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ أَرْحَمُ بِنَا مِنَّا بِأَنْفُسِنَا، قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! بَايِعْنَا، تَعْنِي: صَافِحْنَا، قَالَ: "إِنَّمَا قَوْلِي لِمِئَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ". رَوَاهُ .

وعن أميمة بنت رقيقة قالت: بايعت النبي صلى الله عليه وسلم في نسوة فقال لنا: "فيما استطعتن وأطقتن" قلت: الله ورسوله أرحم بنا منا بأنفسنا، قلت: يا رسول الله! بايعنا، تعني: صافحنا، قال: "إنما قولي لمئة امرأة كقولي لامرأة واحدة". رواه .

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت امیمہ بنت رقیقہ سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے چند عورتوں کی جماعت میں بیعت کی تو فرمایا اس میں جس میں تم طاقت و قدرت رکھو ۲؎میں نے کہا اللہ کے رسول ہم پر ہم سے زیادہ رحیم ہیں۳؎بولی یارسول اللہ ہم سے بیعت لیجئے یعنی ہم سے مصافحہ کیجئے تو فرمایا میرا سو عورتوں سے فرمان ایسا ہی ہے جیسے ایک عورت سے فرمان ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎امیمہتصغیر سے ہے،آپ امیمہ بنت عبداللہ ہیں،رقیقہ آپ کی والدہ کا نام ہے،رقیقہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ ام المؤمنین کی بہن ہیں تو امیمہ حضرت ام المؤمنین خدیجہ کی بھانجی ہیں،آپ کی والدہ رقیقہ بنت خویلد ہیں۔
۲
؎یعنی ہم نے بیعت میں اعمال صالح کرنے،گناہوں سے بچنے کا عہد کیا مگر یہ بھول گئے کہ بقدر طاقت کی قید لگالیتے تو حضور انور نے ہم کو خود یاد دلایا کہ یہ قید لگالو کہ بقدر طاقت نیکیاں کریں گے۔
۳
؎یا تو زبان سے کہا یا دل میں سوچا،چونکہ حضور انور کا فرمان رب تعالٰی کا فرمان ہے۔اﷲ و رسولہفرمایاسبحان الله!اللہ رسول کی مہربانی ہم پر اتنی ہے کہ خود ہم کو اپنے پر اتنی مہربانی نہیں ان کا رحم و کرم ہمارے خیال سے وراء ہے۔
۳
؎آپ سمجھیں کہ بغیر مصافحہ بیعت ہوتی ہی نہیں اس لیے عرض کیا حضور بیعت میں جواب عالی کا خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں سے بیعت صرف کلام سے لی جاتی ہے اور ایک عورت سے بیعت سو عورتوں سے بیعت ایک ہی کلام شریف سے ہوجاتی ہے۔اس حدیث کو برک،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،موطا امام مالک نے بروایت محمد ابن منکدرنقل فرمایا مگر صاحب مشکوۃ کو یہ حوالے ملے نہیں اس لیے انہوں نےرواہفرماکر جگہ خالی چھوڑ دی۔ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے،اس کے راوی محمد ابن منکدر ہیں۔ (مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4048