Main Icon

باب:صلح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4044

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَرَطُوْا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ جَاءَنَا مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهٗ عَلَيْكُمْ، وَمَنْ جَاءَكُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوْهٗ عَلَيْنَا، فَقَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَنَكْتُبُ هٰذَا؟ قَالَ: "نَعَمْ إِنَّهٗ مَنْ ذهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهٗ اللّٰهُ،وَمَنْ جَاءَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللّٰهُ لَهٗ فَرَجًا وَمَخْرَجًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أنس: أن قريشا صالحوا النبي صلى الله عليه وسلم فاشترطوا على النبي صلى الله عليه وسلم أن من جاءنا منكم لم نرده عليكم، ومن جاءكم منا رددتموه علينا، فقالوا: يا رسول الله! أنكتب هذا؟ قال: "نعم إنه من ذهب منا إليهم فأبعده الله،ومن جاءنا منهم سيجعل الله له فرجا ومخرجا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے صلح کی تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر یہ شرط لگائی کہ تم میں سے جو شخص ہمارے پاس آئے گا اسے ہم تم کو واپس نہ دیں گے اور ہم میں سے جو شخص آپ کے پاس جائے گا آپ اسے ہم پر لوٹا دیں گے ۱؎تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ یہ لکھ رہے ہیں ۲؎فرمایا ہاں جو ہم میں سے ان کے پاس جاوے تو اسےنے دور کردیا ۳؎اور ان میں سے ہمارے پاس آوے گا تواس کے لیے راستہ اور گنجائش کردے گا ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح ابھی گزرچکی کہ جو کافر مکہ معظمہ سے مسلمان ہوکر مدینہ منورہ آئے اسے آپ مکہ لوٹا دیں اور جو مسلمان مرتد ہوکر مکہ معظمہ آئے اسے ہم مدینہ منورہ واپس نہ کریں گے اپنے ہاں ہی رکھ لیں گے۔آنے سے مراد اپنا دین چھوڑکر وہاں بسنے کے لیے آنا ہے۔
۲
؎یہ سوال تعجب کے لیے ہے ان حضرات کو دو وجہ سے تعجب ہوا:ایک یہ کہ یہ شرط قبول کرنا بظاہر کفار سے انتہائی دبنا ہے حالانکہ ہم اس وقت پندرہ سو جوان ہیں،غزوہ بدر میں ہم نے تین سو تیرہ ہوکر کفار پر فتح پالی تھی تو دبنے کی کیا وجہ۔دوسرے یہ کہ کافر مسلمان ہوکر مدینہ منورہ آئے اسے مکہ واپس بھیجناگویا اس کے مرتد ہوجانے کی راہ کھول دینا ہےکیونکہ مکہ واپس جاکر اس کا مسلمان رہنا مشکل ہے مگر اس شرط کی مصلحتیں بعد کے واقعات نے ظاہر کردیں حضور جیسا سیاست دان نہ پیدا ہوا نہ پیدا ہوگا۔یہ تو صحابہ کرام کی انتہائی وفاداری تھی کہ ایسی شرطیں دیکھتے رہے اور سرتابی نہ کی۔اگر یہاں اصحاب موسیٰ علیہ ا لسلام ہوتے تو بغاوت کردیتے جیسے حضور انور تمام نبیوں کے سردار ہیں ویسے ہی حضور کے صحابہ تمام نبیوں کے صحابہ کے سردار ہیں۔
۳
؎یعنی جو مسلمان مرتد ہوجائے اس کا مدینہ منورہ میں رہنا خطرناک ہے اسے مکہ معظمہ بھیج دینا ہی مفید ہے۔گلا ہوا عضو جسم سے علیٰحدہ ہوجانا ہی اچھا ہے۔
۴
؎یعنی جو کافر مسلمان ہوکر مدینہ منورہ آجائے اور ہم اسے واپس کردیں تو وہ مکہ معظمہ پہنچ کر مرتد نہ ہوگا بلکہ اسلام کا مبلغ ہوکر اور مکہ والوں کو مسلمان بنائے گا جسے ہم نگاہ بھر کر دیکھ لیں وہ کہاں جاسکتا ہے۔شعر
تو جو للکار دے آتا ہوا الٹا پھر جائے تو جو چمکار دے ہر پھر کے ہو تیرا تیرا
اس کے ساتھ ہی
ان شاءاللهوہ مکہ والوں کے ہاتھ ہلاک نہ ہوگا۔اللہ تعالٰی ان کی حفاظت فرمائے گا۔اس کے لیے کوئی راہ نکال دے گا۔اس نے تو موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی گود میں پرورش کرادیا۔وہ فرعون جس نے موسیٰ علیہ السلام کو روکنے کے لیے اسی ہزار بچے ذبح کرائے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ غیبی خبر ہی پوری ہوئی جیساکہ احادیث سے وتواریخ سے ثابت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4044