Main Icon

باب:صلح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4047

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ صَفْوَانَ اِبْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عِدَّةٍ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ آبَائِهِمْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا، أَوِ انْتَقَصَهٗ، أَوْ كَلَّفَهٗ فَوْقَ طَاقَتِهٖ، أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ، فَأَنَا حَجيجُهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن صفوان ابن سليم عن عدة من أبناء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن آبائهم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"ألا من ظلم معاهدا، أو انتقصه، أو كلفه فوق طاقته، أو أخذ منه شيئا بغير طيب نفس، فأنا حجيجه يوم القيامة". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے صفوان ابن سلیم سے ۱؎وہ متعدد صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بیٹوں سے ۲؎راوی وہ اپنے والدوں سے۳؎راوی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ خبردار رہو جس نے کسی معاہدہ والے کافر پرظلم کیا یا عہد توڑا ۴؎یا اسے طاقت سے زیادہ تکلیف دی یا اس سے کوئی چیز ناخوش دلی سے لی ۵؎تو قیامت کے دن اس کا مقابل میں ہوں گا ۶؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ جلیل القدر تابعی ہیں،اہل مرتبہ سے ہیں،بڑے عابد زاہد تھے،چالیس سال زمین سے اپنی پیٹھ نہ لگائی، زیادتی سجود کی وجہ سے پیشانی میں گڑھا پڑ گیا تھا،حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے آزادکردہ تھے۔بیٹھ کرجان دی،آپ کی ولادت ۶۰ھ؁ ∞ میں ہوئی اور وفات ۱۳۲ھ؁ ∞ میں ہوئی،عبدابن عمر،عبدابن جعفر،انس ابن مالک رضی اللہ عنہم اجمعین سے ملاقات ہے اور ان حضرات سے اور بہت سے تابعین سے روایت احادیث کرتے ہیں۔(اشعہ)
۲
؎ان بیٹوں میں بعض خود بھی صحابی ہیں اور بعض تابعی۔(مرقات)
۳
؎وہ تمام صحابہ ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ تو تمام عادل ہیں ان کا نام روایت میں نہ آنا حدیث کو ضعیف نہیں کرتا مگر ان صحابہ کے وہ بیٹے جن سے صفوان یہ روایت لے رہے ہیں وہ تمام حضرات صفوان کے نزدیک ثقہ ہیں اس لیے ان کا نام بتائے بغیر بے دھڑک حدیث نقل فرمارہے ہیں۔
۴
؎معاہدہ والے سے مراد کافر ذمی اور کافر مستامن سب ہی ہیں۔عہد توڑنے سے مراد یا تو مستامن کی مدت امان میں بلاوجہ کمی کردینا ہے یا جو وعدے اس سے کیے گئے تھے انہیں پورا نہ کرنا ہے۔
۵
؎اس فرمان عالی میں بہت وسعت ہے ذمیوں پر جزیہ ان کی حیثیت سے زیادہ مقررکردینا،پیداوار کا خراج اندھا دھند مقررکردینا،جزیہ خراج کی وصولی میں ان پر ناجائز سختی کرنا،ان سے ہدیے تحفے ڈالی کے بہانے ان کا مال وصول کرنا،ان سے رشوتیں لینا وغیرہ۔
۶
؎یعنی میں اس ظالم حاکم کی شفاعت کرنے کی بجائے اس کی شکایت کروں گا اور عذاب سے بچانے کی بجائے اسے عذاب میں گرفتار کراؤں گا یہ ہے اس رحمۃ اللعالمین کا رحم کہ اس رحم سے کفاربھی محروم نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4047