Main Icon

باب:صلح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4046

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ الْمِسْوَرِ وَمَرْوَانَ: أَنَّهُمُ اصْطَلَحُوْا عَلٰى وَضعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِينَ يَأْمَنُ فِيهِنَّ النَّاسُ، وَعَلٰى أَنَّ بَيْنَنَا عَيْبَةً مَكْفُوْفَةً وَأَنَّهٗ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

عن المسور ومروان: أنهم اصطلحوا على وضع الحرب عشر سنين يأمن فيهن الناس، وعلى أن بيننا عيبة مكفوفة وأنه لا إسلال ولا إغلال. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے مسور اور مروان سے کہ مسلمانوں نے دس سال تک جنگ بند رہنے پر صلح کی ان سالوں میں لوگ امن سے رہیں ۱؎اور اس شرط پر کہ ہمارے درمیان بند صندوق ہو۲؎اور یہ کہ نہ تلوار سونتنا ہو نہ زرہ پہننا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎مگر اس شرط کے باوجود فتح مکہ دو سال بعد ہی ہوگئی کیونکہ مشرکین نے اس صلح نامہ کی دو شرطیں خود توڑ دیں اور جب صلح نامہ کی ایک شرط بھی ٹوٹ جائے تو کُل شرطیں ٹوٹ جاتی ہیں۔
۲
؎عیبہچمڑے وغیرہ کا وہ بقیہ یا صندوق جس میں نفیس کپڑے رکھے جائیں۔مکفوفہبنا ہےکفسے یعنی روکنا یعنی کھلنے سے روکنا(مضبوطی سے بندومقفل)یعنی ان دس سال میں ہمارے آپ کے درمیان جنگ ایسی بند رہے کہ کھل نہ سکے جیسے مقفل صندوق۔
۳
؎اسلالبنا ہےسلٌّسےبمعنی تلوار سونتنا اس لیے ننگی تلوار کو سیف مسلول کہتے ہیں۔اغلالمصدر ہے جس کا مصدر ہےغلبمعنی چھپانا اس سے بنا ہےغلالہیعنی نیچے کی واسکٹ یا صدری۔یہاں مراد ہے زرہ پہننا جس سے جسم ڈھک جاتا ہے۔بعض شارحین نے کہا کہاسلالکے معنی ہیں چھپی ہوئی عداوت اوراغلالکے معنی ہیں خیانت مگر پہلے معنی زیادہ موزوں ہیں۔(اشعہ)مطلب یہ ہے کہ اس دس سال کے دوران جنگ تو کیا جنگ کی تیاری بھی نہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4046