Main Icon

باب:صحبت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3183

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ، فَنَزَلَتْ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن جابر قال: كانت اليهود تقول: إذا أتى الرجل امرأته من دبرها في قبلها كان الولد أحول، فنزلت: نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں یہود کہتے تھے کہ جب مرد اپنی بیوی کے پیچھے کی طرف سے اس کی فرج میں صحبت کرے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے ۱؎تب یہ آیت نازل ہوئی کہ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو جاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عورت کی دبر میں وطی کرنا تمام دینوں میں حرام ہے اسلام میں حرام قطعی ہے کہ اس کا منکر کافر ہے اس کا مرتکب فاسق و فاجر۔ یہاں یہ مطلب ہے کہ مرد عوت کے پیچھے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر فرج میں صحبت کرے تو بچہ کی آنکھ میں خرابی ہوتی ہے کہ وہ بھینگا ہوتا ہے۔
۲
؎اس آیت میںنساؤکمسے مراد مطلقًا عورتیں ہیں خواہ اپنی بیویاں ہوں یا اپنی لونڈیاں اور یہاں بمعنیایننہیں بلکہ بمعنیکیفہے یعنی تعمیم مکان کے لیے نہیں بلکہ تعمیم کیفیت کے لیے ہے اسی لیےحرثکمارشاد ہوا یعنی اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو جاؤ کھڑے،بیٹھے،لیٹے،آگے سے یا پیچھے سے بشرطیکہ فرج میں صحبت ہو کہ فرج ہی کھیتی ہے نہ کہ اور جگہ اس آیت کی تحقیق ہماری تفسیر نعیمی پارہ دوم میں ملاحظہ کیجئے۔مقصد یہ ہے کہ جیسے کھیت میں تخم کسی طرح ڈال دو بفضلہ تعالٰی پیداوار ہوتی ہے یوں ہی اپنی بیوی یا لونڈی کے پاس کسی طرح جاؤ مقدر میں جیسا بچہ ہے ویسا ہوگا آگے پیچھے ہونے سے بچہ پر اثر نہیں پڑتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3183