Main Icon

باب:صحبت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3190

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ أَعْظَمَ الأَمَانَةِ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ القِيَامَةِ -وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللّٰهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ- الرَّجُلُ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا". رَوَاهُ مُسلمٌ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن أعظم الأمانة عند الله يوم القيامة -وفي رواية: إن من أشر الناس عند الله منزلة يوم القيامة- الرجل يفضي إلى امرأته وتفضي إليه ثم ينشر سرها". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سب سے بڑی امانت اللہ کے نزدیک قیامت کے دن،ایک اور روایت میں یوں ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین درجہ والا وہ شخص ہوگا ۱؎جو اپنی بیوی کے پاس جائے اور بیوی اس کے پاس آئے اور پھر اس کا راز ظاہر کرے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اگر یہالرجلمن اشر الناسکی خبر ہو تب تو مطلب واضح ہے کہ قیامت کے دن بدترین شخص یہ ہوگا اور اگران اعظم الامانۃکی خبر ہو توالرجلسے پہلے خیانۃ پوشیدہ ہے یعنی بدترین خیانت اس شخص کی خیانت ہے بہرحال دونوں معنی درست ہیں۔مقصد یہ ہے کہ خیانت صرف مال کی ہی نہیں ہوتی بلکہ مال ، راز اور عصمت وغیرہ سب میں ہوتی ہے بلکہ مال میں خیانت سےبدرجہا بدتر راز داری میں خیانت ہے۔
۲
؎یعنی یا تو اپنی بیوی کے خفیہ عیوب لوگوں کو بتائے یا اس کا حسن اس کی خوبیاں لوگوں کو بتائے یا صحبت کے وقت کی گفتگو اس وقت کے حالات لوگوں سے کہتا پھرے جیسا کہ عام آزاد نوجوانوں کا دستور ہے کہ شب اول کی باتیں اپنے دوستوں کو بے تکلف بتاتے ہیں۔ یہاں مرقات نے ایک حکایت بیان فرمائی کہ کسی کی اپنی بیوی سے جنگ رہتی تھی اس کے ایک دوست نے پوچھا کہ تیری بیوی میں خرابی کیا ہے ؟ وہ بولا کہ تم میرے اندرونی معاملات پوچھنے والے کون ہو ؟ آخر اسے طلاق دے دی، اس سائل نے کہا کہ اب تو وہ تمہاری بیوی نہ رہی اب بتاؤ اس میں کیا خرابی تھی یہ بولا وہ عور ت غیر ہوچکی مجھے کسی غیر کے عیوب بتانے کا کیا حق ہے یہ ہے پردہ پوشی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3190