Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 300

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتّٰى يتَوَضَّأَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«لا تقبل صلاة من أحدث حتى يتوضأ»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے بے وضو کی نماز قبول نہیں یہاں تک کہ وضو کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قبول سے مراد نماز کا جائز ہونا ہے اور وضو سے حقیقی اور حکمی دونوں وضو مراد ہیں یعنی تیمم بھی۔بے وضو کی نماز بغیر وضو یا تیمم جائز نہیں۔احناف کے نزدیک جسے وضو کے لائق پانی اورتیمم کے لائق مٹی نہ ملے وہ نماز قضا کرے،اور اگر قضا کا موقع پانے سے پہلے فوت ہوگیا تو اس پر گناہ نہیں۔یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ عمدًا بے وضو پڑھنا کفر ہے جب کہ نمازکو ہلکا جانتا ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 300