Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 321

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَقَدْ رَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا أَفْضٰى أَحَدُكُمْ بِيَدِهٖ إِلٰی ذَكَرِهٖ لَيْسَ بَيْنَهٗ وَبَيْنَهَا شَيْءٌ فَلْيَتَوَضَّأْ". رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَالدَّارقُطْنِيُّ.

وقد روى أبو هريرة عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم - قال: "إذا أفضى أحدكم بيده إلی ذكره ليس بينه وبينها شيء فليتوضأ". رواه الشافعي والدارقطني.

حدیث ترجمہ

کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ طلق کے آنے کے بعد اسلام لائے۔ اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی،حضور نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ عضو خاص تک پہنچائے کہ بیچ میں آڑ نہ ہو تو وضو کرے ۱؎اسے شافعی اور دار قطنی نے روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ صاحب مصابیح محی السنّہاورصاحب مشکوٰۃ ولی الدین رحمۃاللہعلیہماشافعی ہیں۔اور یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔اس لئے جواب پرمجبور ہوئے اورنسخ کے سوا اورکوئی جواب نہیں بن سکتا، کیونکہ یہ حدیث مطابق قیاس کے ہے اور پچھلی حدیث خلاف قیاس،لہذا ترجیح اس ہی حدیث کو ہوگی جو مطابق قیاس ہے۔اس لیے حضرت محی السنّہ نے نسخ کا دعویٰ فرمایا مگر نسخ کی روایت کوئی نہ ملی،صر ف اندازے سے منسوخ کہہ دیا،یعنی چونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اسلام پیچھے ہے اورطلق کی حاضری پہلے، لہذا طلق نے نہ ٹوٹنے کی حدیث پہلے سنی ہوگی اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وضو توڑنے والی حدیث بعد میں سنی ہوگی،اس لئے حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ناسخ ہے اورحدیث طلق منسوخ۔ظاہرہے کہ یہ بات کتنی کمزور ہے۔اولًاتو اس لیے کہ ان دونوں حدیثوں میں تعارض نہیں،دونوں جمع ہوسکتی ہیں جیساکہ ہم عرض کرچکے،پھربلاوجہ ایک کو منسوخ کیوں مانا جائے۔دوسرے اس لئے کہ حضرت ابوہریرہ کے اسلام کے بعد حضرت طلق نہ تو فات پا گئے اور نہ بالکل غائب ہی ہوگئے بلکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے رہے،تو ہوسکتا ہے کہ آپ نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسلام کے بہت عرصہ بعد سنی ہواورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت پہلے سن لی ہو،حدیث طلق ناسخ ہو،اور حدیث ابوہریرہ منسوخ۔بہرحال یہ دعویٰ نسخ بلا دلیل ہے۔خیال رہے کہ حضرت طلق ہجرت کے سال مسجد نبوی شریف کی تعمیر کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ۷ھخیبر کے سال اسلام لائے،نیز حضرت ابوہریرہ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا بلکہ حضور سے روایت کی۔ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث طلق کی تشریف آواری سے بہت پہلے کسی اور صحابی نے سنی ہو، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہوجیسا کہمُرسَلِصحابہ میں ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 321