Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 333

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ تَمِيْمِ الدَّارِيّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْوُضُوءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلٍ". رَوَاهُمَا الدَّارَقُطْنِيُّ، وَقَالَ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَلَا رَآهُ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ وَيزِيدُ ابْنُ مُحَمَّدٍ مَجْهُولَانِ.

وعن عمر بن عبد العزيز عن تميم الداري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "الوضوء من كل دم سائل". رواهما الدارقطني، وقال: عمر بن عبد العزيز لم يسمع من تميم الداري ولا رآه، ويزيد بن خالد ويزيد ابن محمد مجهولان.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے وہ تمیم داری سے ۱؎راوی فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بہتے خون سے وضو ہے ۲؎ان دونوں حدیثوں کو دارقطنی نے روایت کیااور فرمایا کہ عمربن عبدالعزیز نے تمیم داری سے نہ سنا نہ انہیں دیکھااور یزیدابن خالداور یزیدابن محمدمجہول لوگ ہیں ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام تمیم ابن اوس یاتمیم ابن خارجہ ہے،دار آپ کے کسی دادا کا نام ہے،جس کی کنیت ابورقیہ تھی،آپ مشہور صحابی ہیں، ۹ھمیں ایمان لائے،رات کو ایک رکعت میں قرآن ختم کرتے تھے،آپ نے ہی اولًا مسجد نبوی شریف میں چراغاں کیا،مدینہ منورہ میں قیام رہا،حضرت عثمان کی شہادت کے بعد شام چلے گئے،وہیں وفات پائی۔اورحضرت عمر بن عبدالعزیز ابن مروان ابن حکم تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابو حفص ہے،آپ کی والدہ کا نام لیلےٰ بنت عمرابن خطاب ہے،کنیت ام عاصم،سلیمان ابن عبدالملک کی خلافت کے بعد آپ خلیفہ ہوئے، ۹۹ھمیں خلافت سنبھالی اور ۱۰۱ھمیں ماہ رجب مقامدَیرسمعان میں قریب حمّص انتقال ہوا،چالیس سال عمر ہوئی،دو سال پانچ مہینے خلافت کی،فاطمہ بنت عبدالملک آپ کے نکاح میں تھیں،آپ جیسے عابد،زاہد،خوف خدا میں رونے والے امت مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں کم گزرے،آپ عدل و انصاف میں عمر فاروق کا نمونہ تھے،یزید وغیرہ کی بدعتوں کا آپ نے قلع قمع کیا۔
۲
؎یعنی جو خون بہہ کر جسم کے اس حصہ کی طرف آجائے جس کا دھونا غسل میں فرض ہے وہ ناقض وضو ہے۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ خون وضو توڑتا ہے۔حضرت امام شافعی اس کے خلاف ہیں۔
۳
؎مصنف نے اس حدیث پر دو اعتراض کئے:ایک یہ کہ یہ حدیث مرسل ہے کہ بیچ میں ایک راوی چھوٹ گیا ہے۔دوسرے یہ کہ اس کی اسناد میں دو راوی مجہول ہیں۔مگرخیال رہے کہ حنفیوں کے نزدیک حدیث مرسل قابلِ عمل ہے،نیزحنفیوں کے اس مسئلے کا مدار صرف اس حدیث سے نہیں،بلکہ بخاری،ابن ماجہ،ترمذی،طبرانی،موطا امام مالک،ابوداؤد وغیرہم کی بہت سی احادیث پر ہے۔چنانچہ بخاری میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت ابی حبیش سے فرمایا کہ جب تمہارے حیض کا زمانہ نکل جائے تو استحاضہ کے زمانہ میں ہر نماز کے لیے نیا وضوکرو۔اگر خون وضو نہیں توڑتا تو استحاضہ والی عورت معذور کیوں قرار دی گئی،نیز ابوداؤد ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ حضورفرماتے ہیں اگر نمازمیں کسی کی نکسیر پھوٹ جائے تو نماز چھوڑکر وضوکرے،پھرنماز پوری کرے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب جاء الحق حصہ دوم میں دیکھو۔خیال رہے کہ بہتا خون بحکم قرآن نجاست ہے اور نجاست کا نکلنا وضوتوڑتا ہے۔ایسی صحیح مرفوع حدیث فقیر کی نظر سے نہ گزری جس میں ہو کہ خون ناقض وضو نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 333