Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 305

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: "إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَتَوَضَّأْ" قَالَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ؟ قَالَ: "نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ"، قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: "نَعَمْ" قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِل؟ قَالَ: "لَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر بن سمرة أن رجلا سأل رسول الله -صلى الله عليه وسلم أنتوضأ من لحوم الغنم؟ قال: "إن شئت فتوضأ وإن شئت فلا تتوضأ" قال: أنتوضأ من لحوم الإبل؟ قال: "نعم فتوضأ من لحوم الإبل"، قال: أصلي في مرابض الغنم؟ قال: "نعم" قال: أصلي في مبارك الإبل؟ قال: "لا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے ۱؎کہ ایک صاحب نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم بکری کے گوشت سے وضو کریں؟فرمایا اگر چاہوکرو چاہو نہ کروعرض کیا کہ کیا ہم اونٹ کے گوشت سے وضو کریں؟فرمایا ہاں اونٹ کے گوشت سے وضو کرو۲؎عرض کیا کہ میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟فرمایا ہاں عرض کیا کہ کیا اونٹوں کے طویلہ میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟فرمایا نہیں ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ابوعبداللہہے،قبیلہ بنی عامر سے ہے،سعدابن ابی وقاص کے بھانجے ہیں،صحابی اورصحابی زادہ ہیں،کوفے میں رہے، ۷۴ھمیں وفات ہوئی۔
۲
؎یہاں بھی وضو کے معنی ہاتھ دھونا اور کلی کرنا ہیں۔چونکہ اونٹ کے گوشت میں بو اور چکناہٹ زیادہ ہوتی ہے کہ بغیر ہاتھ منہ دھوئے جاتی نہیں،بکری کے گوشت میں یہ بات نہیں اس لئے کہ اونٹ کے گوشت پر صفائی کی تاکید فرمائی گئی۔امام احمد کے نزدیک اونٹ کےگوشت سےبھی وضو واجب ہے اسی حدیث کی بناء پر۔
۳
؎یعنی جہاں اونٹ بندھے ہوں وہاں نماز نہ پڑھوکیونکہ نمازی کو خطرہ رہتا ہے کہ شاید اونٹ کھلے اور مجھ کو روند دے اس لیے حضور قلب حاصل نہ ہوگا،بکری میں یہ خطرہ نہیں۔وجہ فرق یہ ہے ورنہ اونٹ اور بکری دونوں کا پیشاب نجاست خفیفہ ہے اور زمین سوکھ کر پاک ہوجاتی ہے،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اونٹ کے پیشاب کی چھینٹیں دور تک جاتی ہیں نہ کہ بکری کے پیشاب کی،لہذا نمازی کو وہاں فکر نہ رہے گی نہ کہ یہاں،نیز اونٹ والے اونٹوں کی آڑ میں پیشاب کرلیتے تھے وہاں زمین زیادہ گندی ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 305