Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 319

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُسْرَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهٗ فَلْيَتَوَضَّأْ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدَّارِمِيُّ.

وعن بسرة قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "إذا مس أحدكم ذكره فليتوضأ". رواه مالك وأحمد وأبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بسرہ سے ۱؎فرماتی ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے عضو خاص کو چھوئے تو وضو کرے۲؎اسے مالک، احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ بسرہ بنت صفوان ابن نوفل ہیں،قرشیہ ہیں،اسدیہ ہیں،ورقہ ابن نوفل کی بھیجتی ہیں،مشہور صحابیہ ہیں۔
۲
؎مسکے معنی چھونا بھی ہیں،لگنا ولگانا بھی،اور پہنچنا پہنچانابھی،رب فرماتا ہے:"مَسَّتْہُمُ الْبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ"یہاں اگر چھونے کے معنی ہوں تو تھوڑی عبارت پوشیدہ ہوگی،یعنی جو عضو خاص چھوئے اور وہاں تری پائے تو وضو کرے،چھونے سے نہیں بلکہ تری نکلنے سے،جیسے رب فرماتا ہے:"اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الْغَآئِطِ" یعنی تم میں سے کوئی بیت الخلاء(پاخانہ)سے آئے۔ظاہر ہے کہ بیت الخلاء میں ہو کر آنا وضو نہیں توڑتا بلکہ وہاں پیشاب پاخانہ کرکے آنا وضو توڑتا ہے۔اور اگر مس لگانے یا پہنچانے کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جب تم میں اپنی عورت سے کوئی مباشرت کرے تب وضو کرے،یعنیمَسّ بِالْیَدْمرادنہیں بلکہمَسّ بِالْفَرْجمراد ہے۔ان دونوں صورتوں میں یہ حدیث بالکل ظاہر پر ہے اور اگلی حدیث کے خلاف بھی نہیں۔حضرت امام شافعی اس حدیث کی بنا پر فرماتے ہیں کہ مس عضو خاص وضو توڑ دیتا ہے،لیکن اس حدیث سے ان کا مذہب ثابت نہیں ہوتا،کیونکہ ان کے نزدیک صرف ہتھیلی یا انگلیوں کے پیٹ سے بغیر آڑ چھونا وضوتوڑتا ہے۔انگلیوں یا ہتھیلی کی پیٹھ یا کلائی،کہنی ران سے لگ جانا وضو نہیں توڑتا حالانکہ اس حدیث میںمسمطلق ہے جس میں یہ قیدیں نہیں،نیز یہ حدیث اگلی حدیث کے بھی خلاف ہوگی۔طحاوی شریف میں ہے کہ یہاں وضو سے مراد ہاتھ دھونا ہے۔یہی حضرت مصعب ابن سعد کا قول ہے،یعنی جو عضو خاص چھوئے مناسب ہے کہ ہاتھ دھوئے جیسے کھانے کے وضو میں تھا۔(ازمرقاۃ لمعات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 319