Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 302

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءَ فَكُنْتُ أَسْتَحْيِيْ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهٖ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهٗ فَقَالَ: «يَغْسِلُ ذَكَرَهٗ وَيتَوَضَّأُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن علي قال: كنت رجلا مذاء فكنت أستحيي أن أسأل النبي صلى الله عليه وسلم لمكان ابنته فأمرت المقداد فسأله فقال: «يغسل ذكره ويتوضأ»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں بہت مذی والا تھا اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے بھی شرماتا تھا آپ کی صاحبزادی کی وجہ سے ۱؎تو میں نے مقداد سے کہاانہوں نے حضور سے پوچھا تو فرمایا کہ شرمگاہ دھولیں اور وضو کرلیں ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎شہوت کے وقت جو پتلا لیسدار پانی نکلتا ہے وہ مذی ہے۔پیشاب کے بعد جو سفید قطرہ آجاتا ہے وہ ودی کہلاتاہے۔ان دونوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے نہ کہ غسل۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ بزرگوں سے حیاو غیرت کرنا کمال ایمان کی دولت ہے،ہاں حیا کی وجہ سے مسئلہ ہی نہ پوچھنا،بے علم رہنا گناہ ہے۔علی مرتضی نے مسئلہ بھی معلوم کرلیا اور حیاء قائم بھی رکھی۔
۲
؎یعنی اس کا حکم پیشاب کا سا ہے کہ نجاست حکمی بھی ہے اور حقیقی بھی۔خیال رہے کہ اگر مذی وغیرہ سے روپے برابر جگہ لتھڑ جائے تو پانی سے استنجاکرناواجب ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 302