Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1693

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ فِي مَرَضِهِ الذِي هَلَكَ فِيهِ: أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَیَّ اللَّبِنَ نَصْبًا كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن عامر بن سعد بن أبي وقاص أن سعد بن أبي وقاص قال في مرضه الذي هلك فيه: ألحدوا لي لحدا وانصبوا علی اللبن نصبا كما صنع برسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عامرابن سعد ابن ابی وقاص سے کہ سعد ابن ابی وقاص نے اپنے مرض وفات میں فرمایا میرے لیے بغلی قبرکھودنا اورمجھ پرکچی اینٹیں یونہی کھڑی کرنا جیسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیے کی گئیں ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بغلی قبر یہ ہے کہ اولًا زمین سیدھی کھودی جائے،پھرقبلہ کی جانب میت کے جسم کے مطابق گڑھا کیا جائے اور یہ جو دروازہ سا بن گیا اسے اینٹوں یا پتھروں سے بندکردیا جائے،یہاں پکی اینٹ یالکڑی لگانا مکروہ ہے کہ ان میں آگ کا اثر ہے۔نبی صلی الله علیہ وسلم کی قبر انور میں نو کچی اینٹیں لگائی گئیں کیونکہ مدینہ منورہ کی اینٹ بہت بڑی ہوتی ہے حضورصلی الله علیہ وسلم کی قبر انور زمین سے ایک بالشت اونچی رکھی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1693