Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1715

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: شَهِدْنَا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُدْفَنُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَی القَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ فَقَالَ: " هَلْ فِيكُمْ مَنْ أَحَدٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟ . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا. قَالَ: فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا". رَوَاهُ البُخَارِيّ

عن أنس قال: شهدنا بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم تدفن ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس علی القبر فرأيت عينيه تدمعان فقال: " هل فيكم من أحد لم يقارف الليلة؟ . فقال أبو طلحة: أنا. قال: فانزل في قبرها فنزل في قبرها". رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی دختر کے جنازے پر حاضر ہوئے جب وہ دفن کی جارہی تھیں ۱∞؎اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم قبر پر بیٹھے تھے میں نے آپ کی آنکھوں کو دیکھا کہ آنسو بہا رہی تھیں حضور نے فرمایا کیا تم میں کوئی ایسا بھی ہے جس نے آج رات صحبت نہ کی ہو۲؎ابوطلحہ بولے میں فرمایا تم قبر میں اترو وہ آپ کی قبر میں اترے۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ جنازہ حضرت ام کلثوم بنت النبی صلی الله علیہ وسلم کا تھا جو حضرت عثمان کی زوجہ تھیں۔۲؎یقارف مقارفۃٌسے بنا جس کے معنے ہیں کرنا یا قریب جانا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ مَنۡ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃًجماع کوقرافکہتے ہیں۔بعض شارحین نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ آج رات گناہ نہ کیا ہو مگر یہ غلط ہے،کیا سارے صحابہ راتیں گناہوں میں گزارتے تھے،یہاں بمعنی جماع ہے۔واقعہ یہ ہوا تھا کہ امّ کلثوم بہت عرصہ سے بیمارتھیں حضرت عثمان کو یہ خبر نہ تھی کہ آج ان کی آخری رات ہے اتفاقًا اس رات اپنی لونڈی سے صحبت کر بیٹھے یہ بات حضورصلی الله علیہ وسلم کو ناگوارگزری اشارۃً اس طرح تنبیہ فرمائی،گویا یہ محبوبانہ شکوہ کیا کہ میری بیٹی اتنی بیمار اور تم نے صبر نہ کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہرشخص کے ہرخفیہ اور ظاہری عمل سے خبردار ہیں،دیکھو عثمان غنی کا پردہ کا کام حضور صلی الله علیہ وسلم پر روشن تھا۔۳؎یا تو قبرکو اندر سے صاف کرنے کے لئے تب تو حدیث بالکل ظاہر ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں یا میت کو قبر میں رکھنے کے لئے۔تب اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوگا کہ بوقت ضرورت اجنبی نیک شخص میت عورت کو کفن کے اوپر سے ہاتھ لگا سکتا ہے۔شاید حضور انور صلی الله علیہ وسلم کو کوئی عذر ہوگا جس کی وجہ سے آپ خود قبر میں نہ اترے ورنہ عورت میت کو بیٹا،والد،بھائی۔خاوند قبر میں اتارے،عثمان غنی سے یہ خدمت نہ لینا اظہار عتاب کے لیئے تھایا انہیں بھی کوئی عذر ہوگا۔(لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1715