Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1716

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ لِابْنِهٖ وَهُوَ فِي سِيَاقِ الْمَوْتِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتّٰى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهٖ رُسُلَ رَبِّي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عمرو بن العاص قال لابنه وهو في سياق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار فإذا دفنتموني فشنوا علي التراب شنا ثم أقيموا حول قبري قدر ما ينحر جزور ويقسم لحمها حتى أستأنس بكم وأعلم ماذا أراجع به رسل ربي. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے کہ انہوں نے اپنے فرزند سے بحالت موت فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے ساتھ نہ کوئی نوحہ والی جائے نہ آگ ۱∞؎جب تم مجھے دفن کرو تو مجھ پرمٹی ڈالنا پھر میری قبر کے اردگرد اس قدر کھڑے رہنا جتنی دیر اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت بانٹ دیا جائے تاکہ تم سے مجھے اُنس ہو اور جان لو کہ میں رب کے فرشتوں کو کیا جواب دوں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎زمانۂ جاہلیت میں دستور تھا کہ جنازہ کے ساتھ پیٹنے والی عورتیں بھی جاتی تھیں اور آگ بھی کیونکہ وہ آگ کا احترام کرتے تھے اس لیے آپ نے اپنے بیٹے عبد الله کو یہ وصیت کی اور یہ وصیت دوسروں کو سنانے کے لیے تھی،ورنہ ان کے بیٹے عبد الله خود صحابی ہیں وہ کیسے یہ کام کرسکتے تھے۔سُبْحَانَ اللّٰهِ !کیسے پاکباز لوگ ہیں کہ وفات کے وقت بھی تبلیغ کررہے ہیں۔۲؎اس وصیت سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ دفن کے وقت قبر پرمٹی آہستگی سے ڈالی جائے کیونکہشنآہستہ مٹی ڈالنے کو کہتے ہیں گویا چھڑکنا۔دوسرے یہ کہ بعد دفن قبر کے آس پاس حلقہ باندھ کر کھڑے ہونا سنت ہے۔تیسرے یہ کہ میت حاضرین کو جانتا پہنچانتاہے اور ان کی موجودگی سے اس کی وحشت قبر دور ہوتی ہے،اُنس حاصل ہوتاہے۔چوتھے یہ کہ حاضرین کا میت کو بعد دفن تلقین کرنا،یعنی کلمہ طیبہ یا اذان سناکر اسے سوالات نکیرین کے جوابات بتانا سنت سے ثابت ہے۔آپ کی وصیت کا منشاءیہ ہے کہ بعد دفن قبر کا گھیرا ڈال کر ذکر الله کرنا تاکہ تمہاری موجودگی سے مجھے انس حاصل ہو اور تمہارے ذکر سے نکیرین کو جوابات دینے میں آسانی ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1716