- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- حدیث نمبر 1697
باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1697
جنازوں کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُبْنٰى عَلَيْهِ وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر وأن يبنى عليه وأن يقعد عليه. رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ قبر میں چونا گچ کیا جائے ۱∞؎اور یہ کہ اس پر کچھ بنایاجائے ۲؎اور یہ کہ اس پر بیٹھا جائے ۳؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎خیال رہے کہ قبر میں تین چیزیں ہیں:ایک اس کا اندرونی حصہ جو میت کے جسم سے ملا ہوا ہوتاہے اسے پختہ کرنا،وہاں لکڑی یا پکی اینٹ لگانا مطلقًا ممنوع ہے خواہ ولی کی قبر ہو یا عام مسلمان کی،جسم میت مٹی میں رہناچاہئیے حتی کہ اگر کسی وقت مجبورًا میت کو تابوت یا صندوق میں دفن کرنا پڑے تب بھی اس کے اندرونی حصے میں مٹی سے کہگل کردی جائے۔دوسرا قبر کا بیرونی حصہ جولوگوں کو نظر آتا ہے اس کا پختہ کرناعوام کی قبروں میں منع،اولیاء و مشائخ و علماء کی قبور کا جائز کیونکہ عوام کے لیے یہ بیکار ہے اورخاص قبروں کی حرمت وتعظیم کاباعث اسی پر ہمیشہ مسلمانوں کا عمل رہا اور ہے،خودحضورصلی الله علیہ وسلم نے عثمان ابن مظعون کی قبر کے سرہانے پتھر لگایا۔تیسرے یہ کہ قبر کے آس پاس چبوترہ پختہ ہو اورتعویذ قبر کچا یہ مطلقًا جائزہے۔لہذا یہاں قبر سے مراد قبر کا ا ندرونی حصہ ہے اسی لیئےعَلَی الْقَبْرِنہ فرمایا گیا،یا عام قبریں مراد ہیں جن سے مشائخ اور علماء کی قبریں مستثنٰی ہیں۔ابھی اسی باب میں آئے گا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اور صدیق و فاروق کی قبور پر عہد صحابہ میں سرخ بجری بچھادی گئی تھی بالکل خام نہ رکھی گئی۔۲؎اس طرح کہ قبر پر دیوار بنائی جائے قبر دیوار میں آجائے یہ حرام ہے کہ اس میں قبر کی توہین ہے اسی لیے یہاںعلیہفرمایا گیاحَوْلَہٗنہ فرمایا یا اس طرح کہ قبر کے آس پاس عمارت یاقبہ بنایا جائے یہ عوام کی قبروں پر ناجائز ہے کیونکہ بے فائدہ ہے علماءومشائخ کی قبروں پر جہاں زائرین کا ہجوم رہتا ہے جائز ہے تاکہ لوگ اس کے سایہ میں آسانی سے فاتحہ پڑھ سکیں۔چنانچہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی قبر انور پر عمارت اول ہی سےتھی اور جب ولید ابن عبدالملک کے زمانہ میں اس کی دیوار گرگئی تو صحابہ نے بنائی،نیز حضرت عمر نے زینب بنت جحش کی قبر پر،حضرت عائشہ نے اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبر پر،محمد ابن حنفیہ نے حضرت عبد الله ابن عباس کی قبر پر قبے بنائے،دیکھو خلاصۃ الوفاء اورمنتقی شرح مؤطا،مرقات نے اس مقام پر اور شامی نے دفن میت کی بحث میں فرمایا کہ مشہور علماء ومشائخ کی قبر پر قبے بنانا جائز ہیں۔۳؎یعنی قبر پر چڑھکر بیٹھ جائے یہ حرام ہے کیونکہ اس میں قبر کی توہین ہے لیکن قبر کے پاس تلاوت قرآن کے لیئے بیٹھنا یا وہاں کا انتظام کرنے کے لیئے مجاور بن کر بیٹھنا بالکل جائزہے۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی قبر انور کی مجاورہ تھیں اور کلید بردار لوگ آپ سے حجرہ کھلوا کر قبر انور کی زیارت کرتے تھے۔اسی مشکوٰۃ کے اگلے باب میں بخاری کی روایت سے آرہا ہے کہ حضرت حسن ابن علی کی قبر پر ان کی بیوی صاحبہ نے قبہ بنایا اور وہاں ایک سال تک مجاورہ بن کربیٹھی رہیں،اب بھی حضورصلی الله علیہ وسلم کے روضے پر بہت مجاور رہتے ہیں جنہیں اغواث کہتے ہیں جن کا ایک سردار ہوتا ہے جسے شیخ الاغواث کہا جاتاہے۔فقیر نے دوسرے حج میں شیخ الاغواث خلیل عبدالسلام صاحب کی قدم بوسی کی اور تیسرے حج میں شیخ الاغواث خواجہ الیاس کی،ان مجاوروں کو نجدی حکومت بھی نہ ہٹاسکی۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں بیٹھنے سے استنجے کے لیے بیٹھنا مراد ہے یعنی قبر پر پیشاب پاخانہ نہ کرو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1697