Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1697

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُبْنٰى عَلَيْهِ وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر وأن يبنى عليه وأن يقعد عليه. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ قبر میں چونا گچ کیا جائے ۱∞؎اور یہ کہ اس پر کچھ بنایاجائے ۲؎اور یہ کہ اس پر بیٹھا جائے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ قبر میں تین چیزیں ہیں:ایک اس کا اندرونی حصہ جو میت کے جسم سے ملا ہوا ہوتاہے اسے پختہ کرنا،وہاں لکڑی یا پکی اینٹ لگانا مطلقًا ممنوع ہے خواہ ولی کی قبر ہو یا عام مسلمان کی،جسم میت مٹی میں رہناچاہئیے حتی کہ اگر کسی وقت مجبورًا میت کو تابوت یا صندوق میں دفن کرنا پڑے تب بھی اس کے اندرونی حصے میں مٹی سے کہگل کردی جائے۔دوسرا قبر کا بیرونی حصہ جولوگوں کو نظر آتا ہے اس کا پختہ کرناعوام کی قبروں میں منع،اولیاء و مشائخ و علماء کی قبور کا جائز کیونکہ عوام کے لیے یہ بیکار ہے اورخاص قبروں کی حرمت وتعظیم کاباعث اسی پر ہمیشہ مسلمانوں کا عمل رہا اور ہے،خودحضورصلی الله علیہ وسلم نے عثمان ابن مظعون کی قبر کے سرہانے پتھر لگایا۔تیسرے یہ کہ قبر کے آس پاس چبوترہ پختہ ہو اورتعویذ قبر کچا یہ مطلقًا جائزہے۔لہذا یہاں قبر سے مراد قبر کا ا ندرونی حصہ ہے اسی لیئےعَلَی الْقَبْرِنہ فرمایا گیا،یا عام قبریں مراد ہیں جن سے مشائخ اور علماء کی قبریں مستثنٰی ہیں۔ابھی اسی باب میں آئے گا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اور صدیق و فاروق کی قبور پر عہد صحابہ میں سرخ بجری بچھادی گئی تھی بالکل خام نہ رکھی گئی۔۲؎اس طرح کہ قبر پر دیوار بنائی جائے قبر دیوار میں آجائے یہ حرام ہے کہ اس میں قبر کی توہین ہے اسی لیے یہاںعلیہفرمایا گیاحَوْلَہٗنہ فرمایا یا اس طرح کہ قبر کے آس پاس عمارت یاقبہ بنایا جائے یہ عوام کی قبروں پر ناجائز ہے کیونکہ بے فائدہ ہے علماءومشائخ کی قبروں پر جہاں زائرین کا ہجوم رہتا ہے جائز ہے تاکہ لوگ اس کے سایہ میں آسانی سے فاتحہ پڑھ سکیں۔چنانچہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی قبر انور پر عمارت اول ہی سےتھی اور جب ولید ابن عبدالملک کے زمانہ میں اس کی دیوار گرگئی تو صحابہ نے بنائی،نیز حضرت عمر نے زینب بنت جحش کی قبر پر،حضرت عائشہ نے اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبر پر،محمد ابن حنفیہ نے حضرت عبد الله ابن عباس کی قبر پر قبے بنائے،دیکھو خلاصۃ الوفاء اورمنتقی شرح مؤطا،مرقات نے اس مقام پر اور شامی نے دفن میت کی بحث میں فرمایا کہ مشہور علماء ومشائخ کی قبر پر قبے بنانا جائز ہیں۔۳؎یعنی قبر پر چڑھکر بیٹھ جائے یہ حرام ہے کیونکہ اس میں قبر کی توہین ہے لیکن قبر کے پاس تلاوت قرآن کے لیئے بیٹھنا یا وہاں کا انتظام کرنے کے لیئے مجاور بن کر بیٹھنا بالکل جائزہے۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی قبر انور کی مجاورہ تھیں اور کلید بردار لوگ آپ سے حجرہ کھلوا کر قبر انور کی زیارت کرتے تھے۔اسی مشکوٰۃ کے اگلے باب میں بخاری کی روایت سے آرہا ہے کہ حضرت حسن ابن علی کی قبر پر ان کی بیوی صاحبہ نے قبہ بنایا اور وہاں ایک سال تک مجاورہ بن کربیٹھی رہیں،اب بھی حضورصلی الله علیہ وسلم کے روضے پر بہت مجاور رہتے ہیں جنہیں اغواث کہتے ہیں جن کا ایک سردار ہوتا ہے جسے شیخ الاغواث کہا جاتاہے۔فقیر نے دوسرے حج میں شیخ الاغواث خلیل عبدالسلام صاحب کی قدم بوسی کی اور تیسرے حج میں شیخ الاغواث خواجہ الیاس کی،ان مجاوروں کو نجدی حکومت بھی نہ ہٹاسکی۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں بیٹھنے سے استنجے کے لیے بیٹھنا مراد ہے یعنی قبر پر پیشاب پاخانہ نہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1697