Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1709

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن يُّجَصَّصَ الْقُبُوْرُ وَأَن يُّكْتَبَ عَلَيْهَا وَاِنْ طُوْطَاء. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبور وأن يكتب عليها وان طوطاء. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے قبر کو گچ کرنے ۱∞؎ان پر لکھنے ۲؎اور ان پر چلنے سے منع کیا۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی تفصیلی بحث پہلے ہوچکی کہ قبر کا اندرونی حصہ پختہ نہ کیا جائے،ورنہ بیرونی حصہ پرحضورصلی الله علیہ وسلم نے پتھربھی لگایاہے جیساکہ آگے آرہا ہے اور بجری بچھائی ہے جیساکہ ابھی گزر گیا۔۲؎عام قبروں پر جہاں احتیاط نہ ہوسکے الله کا نام یا قرآن کی آیت لکھنا منع ہے کہ اس میں بے ادبی کا قوی احتمال ہے،لوگ بھی گزر جاتے ہیں،وہاں جانور بھی گزرتے ہیں،خواص کے مزارات جہاں ان کی بے ادبی کا احتمال نہ ہو وہاں جائز ہے۔مرقات میں ہے کہ بعض علماء فرماتے ہیں قبر پر میت کا نام اور تاریخ وفات لکھنا سنت ہے اور لکھنے کی ممانعت کی حدیث منسوخ ہے جیساکہ حاکم نے فرمایا یہ تمام گفتگو قبر کےتعویذ پر لکھنے میں ہے،اگر قبر کے سرہانے پتھر کھڑا کیا جائے اس پر کچھ لکھا جائے تو بلاکراہت جائز ہے۔۳؎اسی لیئے فقہاءنے فرمایا کہ قبرستان میں جو قبر پر سے نئے راستے بنالیے جاتے ہیں ان میں نہ چلے نہ ننگے پاؤں،نہ جوتے پہن کر اس میں مسلمانوں کی قبر کی توہین ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1709