Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1705

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سُلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهٖ. رَوَاهُ الشَّافِعِي

وعن ابن عباس قال: سل رسول الله صلى الله عليه وسلم من قبل رأسه. رواه الشافعي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا گیا ۱∞؎(شافعی)

شرح حدیث

۱∞؎سل سلولسے بنا،بمعنی کھینچنا و سونتناء اسی لیئے ننگی تلوار کو سیف مسلول کہتے ہیں۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا جسم اطہر قبر میں پائنتی کیطرف رکھا گیا پھر ادھر سے قبر انور میں داخل کیا گیا۔حضرت امام شافعی کا یہ طریقہ دفن سنت ہے،ہمارے ہاں میت کو قبر کے قبلہ کی جانب رکھ کر ادھر سے اتارا جائے گا۔امام شافعی کی دلیل یہ حدیث ہے مگر اس سے یہ استدلال درست نہیں چند وجہ سے:ایک یہ کہ یہ حدیث اسنادًا صحیح نہیں کیونکہ امام شافعی نے اس کی اسناد یوں بیان فرمائی شافعی"عن الثقۃ عندہ عن عمر بن عطاء عن عکرمۃ عن ابن عباسٍظاہر ہے کہثقہ عندہضعف کی طرف اشارہ ہے کہ اس میں راوی کا نام نہیں،صرف یہ ہے کہ میں نے ایک معتبر آدمی سے سنا لہذا یہ راوی مجہول ہوا۔دوسرے یہ کہ دوسری صحیح روایات اس کے خلاف ہیں۔چنانچہ ابوداؤ نے مراسیل میں حماد ابن سلیمان ابراہیم النخعی سے اور ابن ماجہ نے ابو سعید خدری سے روایت کی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو جانب قبلہ سے قبر انور میں داخل کیا گیا،سر کی جانب سے نہ کیا گیا،لہذا احادیث متعارض ہیں،متعارض سے استدلال درست نہیں۔تیسرے یہ کہ صحابہ کرام میت کو جانب قبلہ سے قبر میں داخل کرتے تھے۔چنانچہ ابن ابی شیبہ نے روایت کیا کہ حضرت علی نے یزید ابن کنف پرنماز جنازہ پڑھائی اور انہیں جانب قبلہ سے قبر میں اتارا،نیز انہی نے حضرت محمدا بن حنْفیہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس کا جنازہ پڑھایا تو انہیں جانب قبلہ سے قبر میں اتارا۔چوتھے یہ کہ آگے اسی مشکوٰۃ شریف میں آرہا ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے میت کوقبر میں قبلہ کی طرف سے اتارا ۔پانچویں یہ کہ ان باتوں سے آنکھ بندکرلی جائے اور مان لیا جائے کہ حضور انورکو جانب سر سے اتارا گیا تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آپ کو حجرے میں دفن کیا گیا تھا،جانب قبلہ دیوار حائل تھی ادھر جگہ نہ تھی اس مجبوری کی وجہ سے آپ کی ڈولی پائنتی کی طرف رکھی گئی تو یہ عمل مجبورًا تھا۔اور جو حدیثیں ہم نے پیش کیں وہ غیرمجبوری کی حالت میں ہیں۔(مرقاۃ)اشعہ وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1705